پنجاب

نجاب رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے جبکہ آبادی کے لحاظ سے پہلا۔ پنجاب کی صوبائی سرحد گلگت بلتستان کے سوا تمام دیگر پاکستانی علاقوں اور صوبوں سے ملتی ہے۔ پنجاب کے شمال میں وفاقی دارالحکومت،اسلام آباد، شمال مغرب میں صوبہ خیبر پختونخوا ہے ،مغرب میں قبائلی علاقوں کا چھوٹا سا حصہ،جنوب میں صوبہ سندھ، جنوب مغرب میں بلوچستان ہے۔ پنجاب کا صوبائی دار الحکومت لاہور ہے جو برطانوی دور کے  مشترکہ  پنجاب کا بھی دارالحکومت رہا ہے۔ پنجاب کی جغرافیہ میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ  یہ پاکستان کے پانچوں بڑے دریاؤں کا گھر ہے۔

پنجاب میں بولی جانے والی زبان بھی پنجابی کہلاتی ہے۔ پنجابی کے علاوہ وہاں اردو، سرائیکی اور رانگڑی بھی بولی جاتی ہے۔ پنجاب کا دار الحکومت لاہور ہے۔ پنجاب فارسى زبان كے دو لفظوں پنج بمعنی پانچ(5) اور آب بمعنی پانی سے مل کر بنا ہے۔

فروری سے پہلے پنجاب میں بہت سردی ہوتی ہے اور پھر اس مہینے سے موسم میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے اور موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے۔ فروری سے اپریل تک بہار کا موسم رہتا ہے اور پھر گرمی شروع ہونے لگتی ہے جو کہ اکتوبر تک جاری رہتی ہیں ۔ مون سون میں پنجاب میں بے پناہ بارشیں ہوتی ہیں۔

پنجاب کی تاریخ

پنجاب کا لفظ ابن بطوطہ کی تحریروں میں ملتا ہے جو اُنہوں نے 14ویں صدی عیسوی میں اس علاقے کا دورہ کرنے ہوئے لکھی، اس کا وسیع پیمانے پر استعمال سولہویں صدی کے دوسرے حصے کی کتاب ”تاریخ شیر شاہ سوری“ میں ملتا ہے، جس میں پنجاب کے شیر خان کے قلعے کی تعمیر کے حوالے سے ملتا ہے۔ اس سے پہلے پنجاب جیسا تذکرہ مہابھارت کے قصے کہانیوں میں بھی ہے جو پنجا ندا (پانچ ندیاں) کے حوالے سے ہے۔ اس کے بعد آئین اکبری میں ابو الفصل نے لکھا ہے کہ یہ علاقہ دو حصوں میں منقسم تھا، لاہور اور ملتان۔ اس آئین اکبری کے دوسرے حصے میں ابوالفصل نے پنجاب کو پنجند لکھا ہے۔ اس کے علاوہ مغل بادشاہ جہانگیر نے اپنی تزک جہانگیری میں پنجاب کا لفظ استعمال کیا ہے۔ پنجاب کا لفظ فارسی کے پنج یعنی پانچ اور آب یعنی پانی سے ماخوز ہے۔ یعنی پانچ دریاؤں کی سرزمین۔ یہ وہ پانچ دریا ہے جو اس علاقے میں بہتے ہیں۔

آج کل ان میں سے تین دریا تو مکمل طور پر پاکستانی پنجاب کے علاقوں میں بہتے ہیں۔ جبکہ دو دریاؤں کے مرکز بھارتی پنجاب سے ہو کر آتے ہیں۔ اس سے قبل اس کا نام سپت سندھو یعنی سات دریاؤں کی سرزمین تھا۔ تاریخ جہلم میں انجم سلطان شہباز نے لکھا ہے کہ سپت کا مطلب سات اور سندھو کا مطلب دریا ہے۔ نیز شیر شاہ نے جو قلعہ بنایا تھا وہ جہلم میں قلعہ روہتاس کے نام سے ہے۔ ْ

وادئ سندھ تہذیب جو دنیا کے پرانے ترین انسانی تہذیبوں میں سے ایک اہم تہذیب ہے،پنجاب میں بھی اس تہذیب کے گہرے اثرات موجود ہیں جن میں ہڑپہ قابل ذکر ہے۔

پنجاب کے اضلاع

پنجاب میں کل 36 اضلاع ہیں ۔ جن میں  اٹک، بہاول نگر، بہاول پور، بھکر، شکوال، چنیوٹ، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد،  گجرانوالہ،  گجرات، حافظ آباد، جھنگ، جہلم، قصور، خانیوال، خوشاب، لاہور،  لودھراں، منڈی بہاو الدین،  ملتان، مظفر گڑھ ، ناروال،  ننکانہ صاحب، اوکاڑہ، پاک پتن، رحیم یار خان، راجن پور، راولپنڈی، ساہیوال، سرگودھا، شیخو پورہ ، سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ویہاڑی شامل ہیں۔

آبادی اور انتخابی نشستیں

حالیہ مردم شماری کے مطابق پنجاب کی کل آبادی  110,012,442ہے اور صوبائی دارالحکومت لاہورکی کل آبادی 11,126,285 ہے۔  پنجاب میں قومی اسمبلی کی  141جنرل نشستیں ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کے

لیے297  نشستوں پر عام انتخابات ہوتے ہیں


نقشہ

کُل ووٹرز