خیبر پختونخواہ

خیبر پختونخوا  یا کے پی، پاکستان کا ایک صوبہ ہے جو پاکستان کے شمالی مغربی حصّے میں واقع ہے۔ رقبے کے لحاظ پاکستان کے چار صوبوں میں سب سے چھوٹا جبکہ آبادی کے لحاظ سے تیسرا بڑا صوبہ ہے۔ اس کا شمالی حصّہ سرسبز و شاداب علاقوں پہ مشتمل ہے جہاں لوگ مختلف علاقوں سے سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں۔ اور جنوبی حصّہ شہروں پر مشتمل ہے جہاں پاکستان کے بہت سے اہم ادارے اور صنعتیں موجود ہیں۔ صوبائی زبان پشتو اور صوبائی دارالحکومت پشاور ہے۔

صوبہ خیبرپختونخواہ کی آبادی اندازہً 21 ملین ہے۔ سب سے بڑا نسلی گروہ پختونوں کا ہے جن کی آبادی صوبے کی کل آبادی کا تقریباً 66 فیصد ہے۔ سب سے بڑی زبان پشتو جبکہ ہندکو دوسری بڑی عام بولی جانے والی مقامی زبان ہے۔ پشتو مغربی اور جنوبی سرحد میں غالب زبان ہے اور یہ کئی شہروں اور قصبوں کی اصل زبان بھی ہے جن میں پشاور بھی شامل ہے۔ ہندکو بولنے والے مغربی سرحد مثلاً ہزارہ ڈویژن میں خصوصاً ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہری پور شہروں میں عام ہیں جبکہ ضلع بٹگرام میں پشتو باقی دوضلعوں ضلع اپرکوہستان اورضلع لوئرکوہستان میں کوہستانی زبان بولی جاتی ہے۔ سرائیکی اور بلوچی بولنے والے صوبے کے جنوب مشرق میں خصوصاً ڈیرہ اسماعیل خان میں رہتے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے مرکز اور جنوب کے دیہاتی علاقوں میں کئی پختون قبیلے آباد ہیں جن میں بنگش، میاں خیل 'یوسفزئی، تنولی ،دلازاک، خٹک، مروت، آفریدی، شنواری، اورکزئی، محسود، مھمند,.بنوسی اور وزیر قبائیل شامل ہیں۔ شمال کی طرف سلیمانخیل سلیمانی سواتی، ترین، جدون اور مشوانی بڑے پشتون قبیلے ہیں۔ کئی غیر پشتون قبیلے بھی ہیں مثلاً اعوان، گجر وغیرہ۔ اعوان قبیلے کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اصل میں عرب ہیں اور اس قبیلے کے لوگ باقی پشتونوں اور غیر پشتونوں سے مختلف ہیں۔

شمال میں ضلع چترال ہے جہاں چھوٹے نسلی گروہ جیسے کوہستانی، خوار، شینا، توروالی، کالاشا اور کالامی آباد ہیں۔اِس کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا میں 1.5 ملین افغان مہاجرین بھی قیام پزیر ہیں جن میں اکثریت پشتونوں کی ہے۔

خیبر پختونخواہ کی تاریخ

خطۂ صوبہ خیبر پختونخوا میں قدیم زمانے سے کئی حملہ آور گروہ آتے رہے ہیں جن میں فارسی، یونانی، کُشن، ہُنز، عرب، تُرک، منگول، مُغل، سکھ اور برطانیہ شامل ہیں۔ 1500 اور 2000 قبل از مسیح کے درمیان، آریائی قوم کی ایک ایرانی شاخ بنی جس کی نمائندگی پشتون کر رہے تھے اُنہوں نے صوبہ خیبر پختنونخواہ کے زیادہ تر علاقے پر قبضہ کر لیا۔

6 صدی عیسوی سے وادئ پشاور مملکتِ گندھارا کا مرکز تھا۔ بعد میں یہ شہر کُشن دورِ سلطنت کا دارالحکومت بھی بنا۔ اس خطے پر کئی معروف تاریخی اشخاص کے قدم پڑے مثلاً دیریس دوم، سکندر اعظم، ہیون سنگ، فا ہین، ماؤنٹسٹارٹ ایلفنسٹائن اور ونسٹن چرچل۔

خطّے پر موریائی قبضے کے بعد، بدھ مت یہاں کا بڑا مذہب بنا، خصوصاً شہری علاقوں میں جیسا کہ حالیہ آثاریاتی اور تشریحی شواہد سے پتا چلتا ہے۔ ایک بڑا کُشن فرماں روا کنیشکا بھی بُدھ مت کے عظیم بادشاہوں میں سے ایک تھا۔

جبکہ دیہی علاقوں نے کئی شمنیتی عقائد برقرار رکھے مثلاً کالاش گروہ اور دوسرے۔ پشتونولی یا روایتی ضابطۂ وقار جس کی پشتون قوم پاسداری کرتی ہے، خیال کیا جاتا ہے کہ اِس کی جڑیں بھی اسلام سے پہلے کی ہیں۔

خیبر پختونخواہ کے ضلع جات

صوبہ خیبر پختونخوا میں 35 اضلاع ہیں۔ جن میں ایبٹ آباد،بنوں،بٹ گرام، تور غر، بونیر،چارسدہ، چترال ،ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو ،ہری پور، کرک، کوہاٹ، اپرکوہستان، لکی مروت، دیر زیریں، مالاکنڈ، مانسہرہ، مردان، نوشہرہ، پشاور، شانگلہ، صوابی، سوات، ٹانک، دیر بالا اور  لوئرکوہستان شامل ہیں

آبادی اور انتخابی نشستیں

خیبر پختونخواہ کی آبادی حالیہ مردم شماری میں 30,523,371 بتائی گئی ہے جبکہ صوبائی دارالحکومت پشاور کی کل آبادی1,970,042 ہے۔ یہاں قومی اسمبلی کی  39جنرل نشستیں ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی میں  99جنرل نشستوں کے لیے انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔


نقشہ

کُل ووٹرز