مولانا محمد خان شیرانی

image description

تعارف

مولانا محمد خان شیرانی

مولانا محمد خان شیرانی یکم جنوری 1938 کو ضلع شیرانی میں پیدا ہوئے، آپ جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ہیں۔ مولانا محمد خان شیرانی نے دینی تعلیم بنوں کے معراج العلوم سے حاصل کی۔

سیاسی کیریئر

مولانا محمد خان شیرانی ضلع ژوب کے ناظم بھی رہے، آپ نے 1988 کے عام انتخابات میں جمعیت علماء اسلام ف کی نمائندگی کی اور این اے 200 ژوب سے الیکشن لڑا اور قومی اسمبلی کے ممبر بنے، آپ نے 13307 ووٹ حاصل کیے۔

این اے 200 سے ہی جمعیت علماء اسلام (ف) کے ٹکٹ پر 1990 کے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، مولانا محمد خان شیرانی نے 15965 ووٹ حاصل کیے اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمد ایاز خان کو شکست دی۔

عام انتخابات 1993 میں مولانا محمد خان شیرانی نے این اے 200 ژوب سے ہی جمعیت علماء اسلام ف کے ٹکٹ پر حصہ لیا، مگر انہیں اپنے حریف نواب محمد ایاز خان سے شکست کا سامنا پڑا، 15260 ووٹ حاصل کیے۔

عام انتخابات 1997 میں مولانا محمد خان شیرانی کے حریف پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے نواب محمد ایاز خان ہی تھے، تاہم اس بار نواب محمد ایاز خان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، محمد خان شیرانی نے 14679 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی اور رکن قومی اسمبلی بنے۔

الیکشن 2002 میں متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر این اے 264 قلعہ سیف اللہ سے حصہ لیا اور 20381 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔

این اے 264 پر ہی عام انتخابات 2008 میں حصہ لیا، مولانا محمد خان شیرانی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، ان کے حریف مولوی عصمت اللہ نے 17066 ووٹ حاصل کیے۔

مولانا محمد خان شیرانی سینیٹر بھی رہے، انہیں 2010 میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور بنایا گیا، وہ تین سال تک وفاقی وزیر رہے، 2013 میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بنے۔

عام انتخابات 2013 میں مولانا محمد خان شیرانی نے این اے 264 ژوب سے حصہ لیا، انہوں نے 30870 ووٹ حاصل کرکے جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے رہنما مولانا عصمت اللہ کو شکست دی۔