صاحبزادہ طارق اللہ

image description

تعارف

صاحبزادہ طارق اللہ

صاحب زادہ طارق اللہ دیر حلقہ 26سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں اور جماعت اسلامی کی پارلیمانی پارٹی کے لیڈرہیں۔ بہت متحرک رکن اسمبلی ہیں، ہر دل عزیز پارلیمنٹرین ہیں، انہوں نے ذاتی کوششوں سے تمام پارلیمنٹرین کی خدمت میں تفہیم القرآن کی جلدیں ہدیہ کی ہیں۔

دو بار ناظم منتخب ہوئے

رکن قومی اسمبلی بننے سے پہلے دیر کے ضلع ناظم رہے اور مسلسل دوبار ناظم منتخب ہوئے، اور 2009ء تک ناظم ضلع رہے۔ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے وہ بلدیاتی نظام کے زبردست حامی ہیں۔ ان کی رائے میں پارلیمنٹ کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ گلی، محلے کی سڑکوں اور نالیوں کی تعمیر جیسے کاموں میں الجھی رہے، بلکہ یہ فورم قانون سازی اور پالیسی بنانے اور اس پر عمل درآمد کرانے کا ہے۔

پارلیمانی نظام بہترین راستہ

پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے، دستور پاکستان کے دیباچے میں قراردادِ مقاصد بھی موجود ہے اور آئین ہمیں ملک میں قانون سازی کے لیے متعین راہ بھی بتاتا ہے۔ 1970ء سے پہلے ملک میں جیسی بھی حکومتیں رہیں اور مارشل لا بھی رہا وہ اس کی تاریخ اور نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ 1973ء کے آئین کے ذریعے ہم پارلیمانی نظام کی جانب آئے ہیں اور آج تک اسی نظام کے ساتھ چل رہے ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ ملک میں جمہوری تسلسل نہ ہونے کے باعث ایسی باتیں ہورہی ہیں۔ اگر ہمارے ملک میں جمہوری نظام تسلسل سے چلتا رہتا تو کبھی ایسی باتیں نہ ہوتیں۔ میں سمجھتا ہوں ملک کے لیے پارلیمانی نظام اپنی خامیوں کے باوجود بہترین راستہ ہے اور اسے چلتے رہنا چاہیے،یہ تصور کرنا کہ اسے بیلٹ کے بجائے بلٹ کے ذریعے چلایا جائے، ممکن نہیں۔ اور یہ ملک کے لیے بہتر بھی نہیں ہے۔ ملک میں جمہوری عمل جاری رہتا تو سیاسی قیادت بھی نکھر کر سامنے آتی رہتی، نئی لیڈرشپ پیدا ہوتی۔ لیکن وقفے وقفے سے کبھی جمہوری اور کبھی غیر جمہوری نظام رہے ہیں، لہٰذا وقتی خوبیوں اور وقتی خامیوں کی بنیاد پر رائے بنائی جاتی ہے۔ جبکہ اس ملک کے لیے بہترین نظام پارلیمانی نظام ہی ہے۔

سیاسی کیریئر

1993ء میں پہلی بار قومی سیاست میں حصہ لیا۔ سرکاری ملازمت اور امریکہ میں مقیم ہونے کی وجہ سے سیاست میں نہیں تھے تاہم قیادت کے حکم کی تعمیل میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر عوام کی خدمت میں جت گئے۔ جس حلقے سے وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے یہ حلقہ سیاسی اعتبار سے نظریاتی بھی ہے اور لوگ بھی بہت واضح ذہن کے ساتھ اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان کے بزرگ اور قومی اسمبلی کی تاریخ میں نہایت قابلِ احترام نام صاحب زادہ صفی اللہ، 1970 ء کے عام انتخابات میں (اُس وقت این ڈبلیو 18) دیر سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ 1977ء میں ایک بار پھر یہاں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1985ء کی غیر جماعتی اسمبلی میں صاحب زادہ فتح اللہ اس حلقے سے منتخب ہوئے، 1993ء میں پاکستان اسلامک فرنٹ کے ٹکٹ پر پھر صاحب زادہ فتح اللہ منتخب ہوئے، اور2013ء میں صاحب زادہ طارق اللہ یہاں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بنیادی طور پر اس حلقے میں پیپلزپارٹی ان کے مدمقابل رہی ہے اور آج بھی پیپلزپارٹی ہی ان کے مدمقابل ہے۔ قومی اسمبلی کی انتخابی اصلاحات مرتب کرنے والی کمیٹی کے رکن بھی رہے۔