علامہ ساجد نقوی

image description

تعارف

ساجد نقوی

ساجد نقوی نے یکم جنوری 1940 میں اسلام آباد سے ڈیڑھ سو کلو میٹر فاصلے پر ضلع اٹک کے گاؤں ملہووالی کے معروف علمی و مذہبی خاندان میں آنکھ کھولی، جس کا پاکستان میں اسلام کے فروغ اور اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت میں ایک معتبر کردار ہے۔

ساجد نقوی پاکستان کے ایک جید اور مسلمہ اہل علم اور اہل فکر کے طور پر جانے جاتے ہیں، جہاں آپ کے حقیقی چچا پاکستان کے نامور علما میں شمار ہوتے تھے، وہاں آپ کے خاندان کے متعدد افراد بطور عالم دین دینی، سماجی اور سیاسی خدمات انجام دے رہے ہیں، آپ ایک علمی اور سیاسی اسکالر، سنجیدہ اور روشن فکر عالم دین اور بالغ نظر سیاست دان کے طور پر دینی و سیاسی افق پر موجود ہیں، پاکستان میں 28 دینی جماعتوں پر مشتمل ملی یکجہتی کونسل کے سینئر نائب صدر رہے، ملک اردن کے معتبر ادارے رائل اسلامک اسٹریٹیجک اسٹڈیز کی طرف سے 2015، 2016 اور 2017 کی دنیا کے سب سے زیادہ بااثر مسلمانوں کی فہرست میں شامل رہے۔

تعلیمی قابلیت

آپ نے پاکستان میں دینی تعلیم کے بعد تعلیم کے مختلف مراحل طے کیے جن میں فاضل عربی اور درس نظامی کے کورس امتیازی پوزیشن سے پاس کیے، اس عرصہ میں انہوں نے اپنے حقیقی چچا اور پاکستان کے بزرگ عالم دین علامہ سید گلاب علی شاہ نقوی سے اکتساب علم کیا اور ان کے خصوصی اور لائق شاگرد کے طور پر متعارف ہوئے، طالب علمی کے دور سے ہی آپ کو دینی علوم کی عصری تشریح، اجتہاد، سیاسیات اور اصول فقہ کی طرف خصوصی رغبت تھی جس کی عملی شکل آپ کی عملی زندگی میں سامنے آئی۔ پاکستان سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے حوزہ علمیہ نجف اشرف عراق تشریف لے گئے جہاں نامور اور ماہر اساتذہ سے کسب فیض کیا، تعلیمی سلسلہ مکمل کرنے کے بعد واپس پاکستان تشریف لائے اور درس و تدریس کے ساتھ قومی و ملی اور سماجی و سیاسی امور میں مشغول ہوگئے، متعدد ممالک میں بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمینار میں شرکت اور خطاب کرچکے ہیں۔

سیاسی کیرئر 

سنہ 1980 سے علامہ مفتی جعفری حسین کی قیادت میں بننے والی جماعت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی سپریم کونسل کے سینئر رکن رہے، مفتی صاحب کی رحلت کے بعد علامہ سید عارف حسین الحسینی کی قیادت میں چار سال سے زائد عرصہ تک سینئر نائب صدر کی حیثیت سے فعال کردار ادا کیا، 1988 میں علامہ عارف حسین الحسینی کی شہات کے بعد تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی قیادت سنبھالی، قومی و ملی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا، 1992 میں وسعت نظری کے تحت اور غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے اپنی جماعت کا سابقہ نام تبدیل کرکے تحریک جعفریہ پاکستان رکھا۔ 2002 میں قومی جماعت اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی قائد منتخب ہوئے اس جماعت کو پی پی او کے قانون کے تحت الیکشن کمیشن سے رجسٹرڈ کرایا، حکومت کی جانب سے تحریک جعفریہ کا نام کالعدم جماعتوں کی فہرست میں ڈالے جانے کے بعد انہوں نے اسلامی تحریک پاکستان کے نام سے ایک نئی جماعت قائم کی اور اسی پلیٹ فارم سے تاحال اپنی سیاسی، دینی، علمی اور سماجی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 ساجد نقوی پاکستانی عوام کے آئینی، بنیادی، قومی اور اجتماعی حقوق، اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ عدل و انصاف کے قیام، جمہوریت کی اصل روح کے مطابق بحالی کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔