حاجی غلام احمد بلور

image description

تعارف

حاجی غلام احمد بلور  


عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما حاجی غلام احمد بلور25دسمبر1939کو پشاور میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم خداد ماڈل اسکول سے حاصل کی جبکہ اسلامیہ اسکول پشاور اور ایڈورڈ کالج سے تعلیم  حاصل کی۔

انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سال1965میں کیا، ایوب خان کے خلاف مادر ملت محترمہ  فاطمہ جناح کی صدارتی انتخابی مہم چلائی اور بعد ازاں1970میں اے این پی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی،غلام احمد بلور کی اے این پی سے سیاسی وابستگی پارٹی کے دیگر تمام سرگرم کارکنوں سے زیادہ پرانی ہے ۔

عام طور پر حاجی صاحب کے لقب سے جانے جاتے ہیں، اپنے سیاسی کیریئر میں اب تک وفاقی وزیر برائے  ریلوے کے علاوہ تین مختلف حکومتوں میں وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ بحیثیت ترجمان اے این پی کے کالاباغ ڈیم منصوبہ کی مخالفت میں پیش پیش رہے، اپنے سیاسی سفر میں انہیں کئی بار جیل بھی جانا پڑا۔حاجی غلام احمد بلور نے سال2002کے عام انتخابات کے علاوہ1988سے اب تک ہونے والے تمام انتخابات میں  پشاور کے آبائی حلقے سے بھرپور حصہ لیا۔

سال 1988کے عام انتخابات میں آفتاب شیر پاؤ کے ہاتھوں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا، بعد ازاں آفتاب شیر  پاؤ کی وزارت اعلیٰ کے سببب خالی ہونے والی نشست کے ضمنی الیکشن میں وہ کامیاب قرار پائے۔

سال1990کے انتخابات میں بلور بینظیر بھٹو کے مد مقابل تھے جس میں وہ کامیاب ہوئے۔ سال1993میں انہیں   پی پی پی کے ظفر علی شاہ کے مقابلے میں شکست کاسامنا کرنا پڑا، بعد ازاں1997میں پھر کامیاب قرار پائے۔سال2008میں این اے ون سے منتخب ہونے کے بعد بلور کو ریلوے کا وزیر بنایا گیا۔

ریلوے کی وزارت کے حوالے سے بلور کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا، جس میں انہیں ادارے کے بد ترین   مالی بحران اور کرپشن کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے محکمے میں بدعنوانی کے اسکینڈل میں بھی ملوث کیا گیا۔

2012ء میں ایک امریکا میں مقیم ایک قبطی گستاخ رسول کی جانب سے مسلمانوں کے لیے دل آزار 'معصوم     مسلمان' نامی فلم بنانے پر اس  کے سر کی قیمت مقرر کرنے اور قاتل کو انعام دینے کے اعلان کی پاداش میں ان  کے مغربی ممالک میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی، جس کے بعد وہ ایک بار پھر وہ ذرائع ابلاغ کی سرخیوں میں  چھائے رہے۔