شیخ رشید

image description

تعارف

شیخ رشید احمد  


عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد سنہ1950کو راولپنڈی میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔  

زمانہ طالب علمی میں ہی انہوں نے سیاسی میدان میں میں قدم رکھ دیا تھا سال 1960کی دہائی میں اس وقت کےصدر جنرل ایوب خان کیخلاف جب عوامی تحریک کا آغاز ہوا تو شیخ رشید نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،  

گورڈن کالج میں داخلہ کے بعد وہ طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے۔

انہوں نے ایم ایے سیاسیات کی سند حاصل کرنے کے بعد1992میں تحریک استقلال میں باقاعدہ شمولیت اختیارکی لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر انہوں نے  جلد ہی اس سے علیحدگی اختیار کرلی، بعد ازاں1984میں وہ اپنے حلقے سے بلدیاتی کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔

سال1985میں ضیاء الحق کے دور حکومت میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن بن گئے، شیخ رشید محمد خان جونیجو کے عہد میں آزاد پارلیمانی گروپ کے سب سے فعال رکن تھے جس کے سربراہ فخر امام تھے، اس کے بعد اپنی شعلہ بیانی اور پر زور عوامی خطابات کے طفیل1988 میں پیپلز پارٹی کے مضبوط امیدوار جنرل ٹکا خان کو شکست دے ایک بار پھر قومی اسمبلی کے رکن ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ بعد ازاں  1990ء سے 1993ء اور پھر 1997ء کے انتخابات میں شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔

مسلم لیگ ن کے اس وقت کے صدر میاں نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں شیخ رشید کو پہلے مشیر   اطلاعات و نشریات پھر وزیر صنعت و حرفت مع اضافی چارج سیاحت و ثقافت مقرر ہوئے۔

قومی اسمبلی میں ہونے والی اکثر تقاریر میں وہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور اس کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے  تھے، اس وقت کی وزیر اعظم محترمہ بے  نظیر بھٹو نے ان کی تقاریر اور بلند وبانگ تنقید کے آگے بند باندھتے  

ہوئے ان کیخلاف لال حویلی میں ایک عدد کلاشنکوف رکھنے کا مقدمہ دائر کیا جس کی پاداش میں  انہیں اڈیالہ جیل  بھیج دیا گیا، لیکن چند ماہ بعد ہی قانونی کارروائی کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ 1997ء کے الیکشن میں کامیاب ہو

کر میاں نواز شریف کی کابینہ میں بطور وزیر شامل رہے۔12اکتوبر1999کو مشرف دور کا آغاز ہوا جس کے  بعد سال 2002میں ہونے والے عام انتخابات میں انہوں نے اپنی نشست پر آزاد امیدوار کی حیثیت سے  

کامیابی حاصل کی.

ان کا شمار پرویز مشرف کے مداحوں میں ہوتا تھا، اس کامیابی کے بعد انہوں نے ن لیگ کو خیر باد کہتے ہوئے ق  لیگ میں شمولیت اختیار کرلی، پرویز مشرف کے دور حکومت میں شیخ رشید نے پہلے وزیر اطلاعات اور پھر  

وزارت ریلوے کا قلمدان سنبھالا، سال2008کے عام انتخابات میں وقت نے کروٹ بدلی اور شیخ رشید کو  مخدوم  جاوید ہاشمی کے مقابلے میں شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، بعد ازاں انہوں نے ق لیگ سے علیحدگی اختیار  

کرکے عوامی مسلم لیگ نام سے اپنی ایک نئی سیاسی جماعت کو تشکیل دیا۔ اس کے بعد2010کے ایک ضمنی  انتخاب میں شیخ رشید کو ایک بار پھر ن لیگ کے امیدوار کے ہاتھوں شکست ہوئی

سیاسی پیش گوئیوں کے حوالے سے مشہور سیاست دان شیخ رشید نے سال 2013میں عوامی مسلم لیگ کے  پلیٹ فارم اور تحریک انصاف کی حمایت سے کامیابی حاصل کی اور ایک بار پھر رکن قومی اسمبلی بن گئے، شیخ رشید احمد کی وجہ شہرت ان کا عوامی انداز، اسکینڈلز، لال حویلی اور سیاسی پیشن گوئیاں ہیں۔