فاروق ستار

image description

تعارف

ڈاکٹر فاروق ستّار


ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما اور سابق کنونیر ڈاکٹر فاروق ستار 9اپریل 1959 کو کراچی میں پیدا ہوئے ۔ فاروق ستار نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی سے میڈیکل میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔

پاکستان کے حکمرانوں کی جانب سے مہاجر عوام کے امتیازی سلوک برتنے کے باعث سنہ 1978میں الطاف حسین اور عظیم احمد طارق نے آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او)کی بنیاد رکھی تاکہ مہاجر عوام کو ان کے حقوق دلوائے جاسکے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے سنہ 1979میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں شمولیت اختیار کی اور سنہ 1986میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی سے اپنی ایم بی بی ایس کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے سرگرم کارکن بن گئے۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے سیاسی سفرکا آغاز سنہ 1987میں کیا ،جب آپ محض 28برس کی عمر میں پاکستان کے معاشی حب کراچی کے میئر منتخب ہوئے اور 1988 تاحال قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔

ڈاکٹر فاروق ستار سنہ1988میں پہلی مرتبہ اور سنہ 1990میں دوسری مرتبہ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پرکراچی کے جنوبی حصّے سے قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے ۔

ایم کیو ایم نے سنہ 1993 میں عام میں انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشتوں پر الیکشن کا بایئکاٹ کردیا جس کے بعد ڈاکٹر فاروق ستارپہلی مرتبہ سندھ اسمبلی کے ممبر بننے اورایم کیو ایم کی جانب سے سندھ کے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے فرائض انجام دیئے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کو سنہ 1994 میں ایم کیو ایم کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران گرفتار کرلیا گیا تھا، جنہیں بعد میں سنہ 1997 میں جیل سے رہائی ملی۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے جیل سے رہائی پانے کے بعد سنہ 1997 میں ہونے والی عام انتخابات میں بھرپور حصّہ لیا اور قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشتوں پر کامیاب ہوئے، لیکن صوبائی اسمبلی کو اہمیت دیتے ہوئے سندھ کی صوبائی کابینہ میں وزیر منتخب ہوئے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کو عام انتخابات کے دو سال بعد 1999 میں کرپشن کے مقدمات میں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا اور سنہ 2001 میں رہا کیا گیا، اس دوران فاروق ستار کو کراچی کے سیشن کورٹ میں مختلف مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے سنہ 2002 میں منعقد ہونے والے الیکشن میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر حصّہ لینے سے انکار کردیا تاہم سنہ 2003 میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے متحدہ مجلس عمل کے ممبر محمود قریشی کے انتقال کے باعث تیسری مرتبہ کراچی جنوبی حصّے سے  ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کے ممبر بننے۔

ڈاکٹر فاروق ستار متحرمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد سنہ 2008 میں ہونے والے عام انتخابات میں چوتھی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت میں ’وزیر برائے اوور سیز پاکستانی‘ کی حیثیت سے فرائض انجام دیئے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کو کراچی کی عوام نے سنہ 2013 میں پانچویں مرتبہ این اے 249 سے رکن قومی اسمبلی منتخب کیا، اور آپ سنہ2018 تک ممبر قومی اسمبلی رہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار کو اگست 2016 میں ایم کیو ایم کے بانی و قائد الطاف حسین کی جانب سے ریاست مخالف اور ملک کی سیکیورٹی اداروں کے خلاف کی گئی نفرت  آمیز تقریر  کے بعد سندھ رینجرز نے گرفتار کرلیا تھا لیکن چند گھنٹے بعد ہی رہا کردیا۔

پاکستان کے انسداد دہشت گردی عدالت نے ڈاکٹر فاروق ستار کے خلاف پاکستان مخالف تقریر سننے اور ملک کے نامور نجی ٹی وی چینل کے جرم میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے تھے۔ جس کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار نے ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ مل کر الطاف حسین سے اپنے راہیں جدا کرلیں اور ایم کیو ایم پاکستان کی بنیاد رکھی۔ جو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں فاروق کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور پارٹی کے کنوینئر  بھی آپ ہیں۔

فروری 2017 میں پاکستان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مملکت مخالف تقریر کرنے اور پارٹی کارکنان کو بھڑکانے کے جرم میں ڈاکٹر فاروق ستار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم صادر کیا۔ اور مارچ 2017 میں آپ کو گرفتار کرلیا گیا لیکن کچھ دیر بعد رہا کردیا گیا۔

نومبر 2017 میں ڈاکٹر فاروق ستار نے اعلان کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان مصطفیٰ کی جماعت پاک سر زمین پارٹی کے اتحاد کرے گی، اور ایک روز بعد ہی آپ نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنونئیر کی عہدے سے استعفیٰ دے دیا لیکن کچھ دیر بعد ہی اپنی والدہ کے حکم پر استعفیٰ واپس لے لیا۔

فروری 2018 میں ڈاکٹر فاروق ستار اور ایم کیو یایم پاکستان کے دیگر رہنماؤں کے درمیان کامران ٹیسوری کو سینیٹ الیکشن میں نامزد کرنے کے معاملے پر شدید اختلافات سامنے آئے جس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی۔

ایم کیو ایم پاکستان (بہادرآباد) خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں سیاسی میدان میں کام کرنے لگی اور ایم کیو ایم پاکستان (پی آئی بی) کے کارکنان نے ڈاکٹر فاروق کی سربراہی میں اپنا سیاسی سفر جاری شروع کردیا۔ تاہم انتخابات 2018کے باعث ایم کیو ایم پاکستان کے دونوں دھڑوں میں اتحاد ہوگیا ہے۔