اعتراز احسن

image description

تعارف

اعتزاز احسن


اعتزاز احسن معروف قانون داں اور پیپلز پارٹی کے شعلہ بیاں مقرر ہیں۔ سنہ 2007 میں عدلیہ بحالی تحریک میں انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا جس کے اعتراف میں انہیں دفاع برائے انسانی حقوق کے بین الاقوامی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

پیدائش اور تعلیم

اعتزاز احسن 27 ستمبر 1945 کو صوبہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں پیدا ہوئے تاہم ان کی پرورش لاہور میں ہوئی۔

اعتزاز احسن نے ثانوی تعلیم ایچی سن کالج اور گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی۔

انہوں نے ڈاؤننگ کالج کیمبرج سے وکالت کی ڈگری حاصل کی۔ اعتزاز احسن نے سول سروس کا امتحان بھی دیا جس میں انہوں نے ٹاپ کیا تاہم انہوں نے گورنمنٹ سروس جوائن نہیں کی۔

سیاسی سفر

اعتزاز احسن تعلیم مکمل کرنے کے بعد سنہ 1967 میں وطن واپس آئے اور اسی سال پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اپنے سیاسی کیریئر کا باقاعدہ آغاز انہوں نے 1970 سے کیا۔

سنہ 1997 کے عام انتخابات کے بعد جب ضمنی الیکشن منعقد ہوئے تو انہوں نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کی نشست کے لیے گجرات سے حصہ لیا اور فتح یاب ہوئے۔ اس وقت انہیں اطلاعات، منصوبہ بندی و ترقی کی صوبائی وزرات کا قلمدان دیا گیا۔

اسی سال جب انتخابات میں پیپلز پارٹی کی مبینہ دھاندلی کے خلاف پاکستان قومی اتحاد (پاکستان نیشنل الائنس) تشکیل دیا گیا تو اتحاد کی حمایت میں نکالی جانے والی وکلا کی ایک ریلی پر پنجاب پولیس نے فائرنگ کردی۔ واقعے کے بعد اعتزاز احسن احتجاجاً وزارت کے عہدے اور پارٹی رکنیت سے مستعفی ہوگئے۔

بعد ازاں انہوں نے ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی قائم کردہ تحریک استقلال میں شمولیت اختیار کرلی۔

جنرل ضیا الحق کے بھٹو کی حکومت پر شب خون کے بعد اعتزاز احسن نے دوبارہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ انہوں نے اس وقت چلنے والی ’تحریک برائے بحالی جمہوریت ۔ ایم آر ڈی‘ میں فعال کردار اد کیا۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں وہ 2 سال جیل میں بھی رہے۔

سنہ 1988 میں اعتزاز احسن پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر لاہور سے پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہیں قانون و انصاف کی وزارت کا قلمدان سونپا گیا جبکہ انٹیریئر اور نارکوٹکس کنٹرول کی وزارت کا اضافی قلمدان بھی دیا گیا۔

سنہ 1990 کے انتخابات میں لاہور ہی سے وہ دوبارہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

سنہ 1993 کے انتخابات میں اسی حلقے سے انہوں نے پاکستان مسلم لیگ کے ہمایوں اختر سے شکست کھائی۔ 1994 میں انہیں سینیٹ کا رکن منتخب کیا گیا اور 1999 تک وہ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے اپوزیشن لیڈر رہے۔

سنہ 2002 کے انتخابات میں انہوں نے بہاولپور اور لاہور کے 2 حلقوں سے حصہ لیا ور دونوں سے فتح حاصل کی۔

سنہ 2007 میں جب جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معزول کیا اور ملک بھر میں عدلیہ بحالی تحریک پوری شدت سے شروع ہوئی تو اعتزاز احسن نے تحریک کے ہر اول دستے میں فعال کردار ادا کیا۔

جنرل مشرف کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد انہیں 4 ماہ تک گھر میں نظر بند بھی رکھا گیا۔

سنہ 2012 میں اعتزاز احسن کو پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹ کی ٹیکنو کریٹ نشست پر منتخب کیا گیا۔ 2013 میں انہیں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا اور ان کے اس عہدے کو 2015 میں بھی برقرار رکھا گیا۔

اعتزاز احسن سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے۔ سنہ 2008 میں انہیں ہانگ کانگ میں ایشین ہیومن رائٹس ڈیفنڈر کا ایوارڈ دیا گیا جبکہ وہ 2 کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔