خواجہ اظہار الحسن

image description

تعارف

خواجہ اظہار الحسن

خواجہ اظہار الحسن 26 اکتوبر 1971 کو کراچی میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے ہے، انہوں نے پی ایس 99 کراچی سے الیکشن لڑا اور کامیابی کے بعد سندھ اسمبلی کے ممبر بنے، وہ 2013 الیکشن کے بعد سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی رہے۔

تعلیمی قابلیت

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے تعلق رکھنے والے خواجہ اظہار الحسن نے ایم بی اے کی ڈگری پم سیٹ یونیورسٹی سےحاصل کی، ایل ایل بی کی تعلیم کراچی یونیورسٹی سے حاصل کی، بیچلر آف سائنس بھی کراچی یونیورسٹی سے ہی مکمل کیا۔

ذاتی زندگی

چھیالیس سالہ خواجہ اظہار الحسن کے والد کا نام خواجہ نور الحسن ہے، خواجہ اظہار شادی شدہ ہیں اور اپنے تین بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کررہے ہیں۔

سیاسی کیریئر

خواجہ اظہار الحسن 1988 سے ایم کیو ایم سے وابستہ ہیں تاہم جب ایم کیو ایم حقیقی وجود میں آئی تو خواجہ اظہار حقیقی میں شامل ہوگئے بعد میں دوبارہ ایم کیو ایم میں شامل ہوگئے، 22 اگست 2016 میں بانی متحدہ کی کراچی پریس کلب پر متنازع تقریر کے بعد ایم کیوایم نے بانی متحدہ سے اپنی راہیں جدا کرلیں اور ایم کیو ایم پاکستان وجود میں آئی تو وہ ایم کیو ایم پاکستان کا حصہ بن گئے، فاروق ستار اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں میں جاری کشیدگی کے باعث ایم کیو ایم کے مزید دو دھڑے بن گئے ایم کیو ایم پی آئی بی اور ایم کیو ایم بہادر آباد، خواجہ اظہار اب ایم کیو ایم بہادر آباد کا حصہ ہیں، وہ کچی آبادی کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔

ثالثی کا کردار

خواجہ اظہار ایک ہی حلقے سے دو بار الیکشن لڑ چکے ہیں ان کی رہائش بفر زون نارتھ کراچی میں ہے۔ وہ ایم کیو ایم شعبہ اطلاعات کے ذمہ دار بھی رہ چکے ہیں اور ایم کیو ایم پی آئی بی و بہادر آباد کے درمیان ہونے والے اختلافات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والی کمیٹی کا حصہ بھی رہے۔ تاہم اس کمیٹی کی کاوشیں کامیاب نہ ہو سکیں۔

گرفتاری و رہائی

گزشتہ ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کے گھر پر پولیس پارٹی نے چھاپہ مارا اور اظہار الحسن کو حراست میں لے لیا تھا، پولیس پارٹی کی قیادت ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کر رہے تھے۔ خواجہ اظہار کو ہتھکڑی لگا کر پولیس اپنے ساتھ لے گئی، واقعہ کے فوری بعد وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو معطل کردیا۔ مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے ان کی معطلی کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے ’غلط قدم‘ کو اس کی وجہ قرار دیا۔

قاتلانہ حملہ

گزشتہ سال خواجہ اظہار جب نماز عید کی ادائیگی کے بعد گھر کی جانب جارہے تھے تو ان پر نامعلوم افراد کی جانب سے قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں وہ بال بال بچ گئے تاہم پولیس وردی میں حملہ آوروں کی فائرنگ سے خواجہ اظہار الحسن کا گارڈ اور ایک شہری جاں بحق ہوگئے۔ جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور ہلاک ہوگیا، پولیس نے جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے 27 خول برآمد کئے، ان پر حملے کا مقدمہ انسداد دہشت گردی ڈپارٹمنٹ نے درج کیا۔