فیصل سبزواری

image description

تعارف

فیصل سبزواری

متحدہ رہنما فیصل سبزواری 4 اگست 1975 کو پیدا ہوئے، وہ متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما ہیں، ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر فیصل سبزواری 2013 کے الیکشن میں ممبر سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔

بی بی اے فنانس اور ایم اے اکنامکس کی تعلیم حاصل کی، ماسٹر کی ڈگری انہوں نے پرسٹن یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے حاصل کی، فیصل سبزواری نے کراچی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران اے پی ایم ایس او کی قیادت بھی کی۔

فیصل سبزواری کے والد کا نام احترام علی سبزواری اور والدہ کا نام پروین سبزواری ہے، ان کی شریک حیات کا نام امبر فیصل ہے، اللہ تعالیٰ نے انہیں تین بیٹیوں سے نوازا ہے، جن میں دعا سبزواری، حیا سبزواری اور ردا سبزواری شامل ہیں۔

شاعری سے لگاؤ

فیصل سبزواری شاعری سے لگاؤ رکھتے ہیں وہ متعدد پریس کانفرنس میں اس کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں اور متعدد مشاعروں میں شرکت کرتے رہتے ہیں، اردو ادب سے وابستہ ایک تنظیم میں بھی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

سیاسی کیریئر

فیصل سبزواری نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) سے کیا، وہ 2002 کے جنرل الیکشن میں اے پی ایم ایس او اسٹوڈنگ ونگ کے سربراہ بھی رہے، 2008 کے عام انتخابات میں فیصل سبزواری ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر رکن سندھ اسمبلی  منتخب ہوئے، انہوں نے وزارت یوتھ افیئر کی ذمہ داری بھی انجام دی اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی رہے۔

سیاست سے کنارہ کشی

فیصل سبزواری نے جولائی 2015 میں سیاست سے عارضی طور پر کنارہ کشی اختیار کرلی، انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ امریکا سے واپسی پر دوبارہ سیاست کا آغاز کریں گے، وہ امریکا میں فیملی کے ساتھ چھٹیاں گزار رہے تھے، ان کی سیاست سے دور ہونے پر میڈیا پر کئی افواہیں گردش کرتی رہیں۔

سیاسی بیک گراؤنڈ

فیصل سبزواری نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز ہائر ایجوکیشن مکمل ہونے کے بعد کیا، ان کے انکل ایم کیو ایم کے رہنما رہے، وہ 1987 سے 1992 تک ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر کونسلر منتخب ہوئے، ان کے انکل کو جولائی 1995 میں پولیس نے گرفتار کیا، اسلم سبزواری جو کونسلر منتخب ہوئے تھے انہیں دوران آپریشن مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل کیا گیا مگر اس حوالے سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تھی۔

رابطہ کمیٹی سے نکال دیا گیا

بانی متحدہ نے فیصل سبزواری کو تنظیمی نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر رابطہ کمیٹی سے نکال باہر کیا، تاہم کچھ عرصے بعد انہیں دوبارہ رابطہ کمیٹی میں شامل کرلیا گیا۔

ایم کیو ایم پی آئی اور بہادر آباد

فاروق ستار کی ایم کیو ایم بہادر آباد سے ناراضی کے بعد ایم کیو ایم کے دو دھڑے بن گئے فاروق ستار ایم کیو ایم پی آئی بی اور فیصل سبزواری ایم کیو ایم بہادر آباد میں موجود رہے، جب بہادر آباد کا وفد فاروق ستار کو منانے کے لیے پی آئی بی پہنچا تو فیصل سبزواری فاروق ستار کے گلے لگ کر رو دئیے اور کہا کہ خواہش ہے کہ فاروق ستار رابطہ کمیٹی کی صدارت کریں۔

وارنٹ گرفتاری جاری

چار جون 2018 کو کراچی سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی عدالت نے مسلسل غیر حاضری پر فاروق ستار، فیصل سبزواری، عامر خان، نسرین جلیل کی گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ 8 جولائی کو ہر صورت عدالت میں پیش کیا جائے، ملزمان کے خلاف لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ 2015 میں تھانہ سولجر بازار میں درج ہوا تھا۔