احسن اقبال

image description

تعارف

احسن اقبال

مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سیاست دان احسن اقبال 28 مارچ 1959  کو پنجاب کے شہر لاہور میں پیدا ہوئے۔ 1976 سے1981 کے درمیان انھوں نے لاہور کی انجینیرنگ اور ٹیکنالوجی یونی ورسٹی سے مکینکل انجینیرنگ میں بی ایس سی کیا اور پھر 1989 میں واشنگٹن کی جارج ٹاؤن یونی ورسٹی میں ایک ہفتے پر مشتمل لیڈر شپ اور انٹرنیشنل افیئرز کے مشہور سیمینار (GLS) میں شرکت کی۔

احسن اقبال نے 1992 میں آکسفرڈ یونی ورسٹی کے CSC لیڈر شپ اور اکانومی پروگرام میں حصہ لیا، اس کے بعد 2004 میں وہ ہارورڈ یونی ورسٹی کے جان ایف کینیڈی اسکول آف گورنمنٹ سے لیڈر شپ اور ڈیولپمنٹ کے کورس میں بھی شریک ہوئے۔ 1984 سے 1986 کے دوران انھوں نے پنسلوانیا یونی ورسٹی کے دی وارٹن اسکول سے اسٹریٹیجک منیجمنٹ اور مارکیٹنگ میں ایم بی اے کیا۔

زندگی کے معاشی و سیاسی تجربات

احسن اقبال نے اپنی معاشی زندگی کا آغاز ملت ٹریکٹرز لمیٹڈ میں اسسٹنٹ منیجر پروڈکشن کے طور پر کیا جہاں وہ 1982 سے 1984 تک رہے۔ پھر 1986 میں ایک سال گھی کارپوریشن آف پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ میں ڈپٹی جنرل منیجر کے عہدے پر کام کیا، اس کے اگلے سال انھوں نے پنجاب کی ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن میں جنرل منیجر کے طور پر کام کیا۔

معاشی زندگی سے جست بھرتے ہوئے انھوں نے سیاسی زندگی میں قدم جمایا اور 1990 سے 1993 کے درمیان وزیر اعظم سیکریٹریٹ میں ریسرچ اینڈ انالسز کی کمیٹی میں کنسلٹنٹ کے خدمات انجام دیے اور آخر کار 1993 میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں رکن پارلیمنٹ بن گئے۔ 1997 سے 1999 کے درمیان حکومت پاکستان کے گڈ گورننس گروپ کے چیئرمین رہے، اسی دوران وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے وزیر بنے اور پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین رہے۔ 1997 سے 1999 کے درمیان وہ پھر رکن پارلیمنٹ رہے۔

احسن اقبال 2001 سے 2008 کے درمیان محمد علی جناح یونی ورسٹی اسلام آباد میں پروفیسر کے عہدے پر بھی تعینات رہے، اور 2004 سے

مئی 2006 تک سعودی عرب میں مدینۃ المنورہ ڈیجیٹل اکانومی پروجیکٹ کے سینئر ایڈوائزر بھی رہے۔ 2008 میں وہ ایک بار پھر رکن پارلیمنٹ بنے اور پانچ سال تک ایوان میں رہے، اس کے بعد جون 2013 میں پھر رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔

جون 2013 میں وہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مقرر ہوئے، اور اگست 2017 میں انھیں حکومت پاکستان کی طرف سے وفاقی وزیر برائے داخلہ مقرر کیا گیا، وہ دسمبر 1999 سے مئی 2013 تک بہتر پاکستان فاؤنڈیشن میں چیئرمین کے عہدے پر بھی تعینات رہے۔

سیاسی زندگی

احسن اقبال چوہدری کا تعلق مسلم لیگ نواز  سے ہے، انھوں نے ن لیگ کے پلیٹ فارم سے پاکستانی سیاست میں متحرک کردار ادا کیا ہے اور اہم ترین عہدوں پر تعینات رہے۔ اگست 2017 میں شاہد خاقان عباسی کی وزارت عظمیٰ میں انھوں نے چوہدری نثار علی خان کی جگہ سنبھالتے ہوئے وزارت داخلہ کا اہم منصب حاصل کیا۔ ن لیگ کا دور حکومت پورا ہونے پر ان کی جگہ نگراں سیٹ اپ میں محمد اعظم خان نے سنبھال لی ہے۔

ان کا تعلق سیاسی خاندان ہے، ان کی والدہ نثار فاطمہ 1985 میں خواتین کی مخصوص سیٹوں پر منتخب ہوکر رکن قومی اسمبلی بنی تھیں۔ احسن اقبال کے نانا چوہدری عبد الرحمان خان 1927 سے 1945 کے دوران برطانوی راج میں پنجاب کے ایوان مقننہ کے رکن رہے تھے۔

احسن اقبال نے اپنی سیاست کا آغاز لاہور کی انجینیرنگ یونی ورسٹی کی طلبہ یونین سے کیا، وہ یونین کے صدر رہے، اس وقت ان کا تعلق جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا۔ انھیں اَسّی کی دہائی میں ضیاء الحق نے پاکستان کے دائیں بازو کی سیاست سے متعارف کرایا تھا۔ 1988 میں وہ آخر کار پاکستان مسلم لیگ سے منسلک ہوگئے۔

انھوں نے اپنا پہلا انتخاب 1993 کے عام انتخابات میں نارووال سے NA-117 کی نشست پر جیتا اور قومی اسمبلی کے رکن بنے، اس دوران انھوں نے وزیر اعظم کے پالیسی و پبلک افیئرز اسسٹنٹ کے فرائض انجام دیے۔

1997 کے عام انتخابات میں جب وہ ایک بار پھر مسلم لیگ ن کی طرف سے رکن اسمبلی بنے تو انھوں نے پاکستان کی پہلی آئی ٹی پالیسی تشکیل دینے کا کارنامہ انجام دیا۔ پرویز مشرف کے دور میں انھوں نے ایم اے جناح یونی ورسٹی میں پڑھانا شروع کیا، کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اس کڑے دور میں مسلم لیگ ن کو زندہ رکھا۔

وہ 2008 میں تیسری بار منتخب ہونے کے بعد وزیر تعلیم اور وزیر اقلیتی امور بھی رہے لیکن پیپلز پارٹی کے ساتھ ججز کے معاملے پر ن لیگ کے اختلافات کے باعث چھ ہفتے بعد ہی استعفیٰ دے دیا۔ 2011 میں وہ پاکستان مسلم لیگ ن کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ 2013 کے عام انتخابات میں انھوں نے ن لیگ کے امیدوار منتخب کرنے والے بورڈ میں بھی کردار ادا کیا اور چوتھی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ پاکستان میں پائیدار ترقیاتی اہداف کے فروغ کے لیے فروری 2016 میں انھیں ایشیا سے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ’چیمپئن منسٹر‘ مقرر کیے گئے۔

قاتلانہ حملہ

مئی 2018 میں جب کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کا آخری مہینہ تھا، ایک سیاسی جلسے میں ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ وہ اپنے انتخابی حلقے نارووال میں جلسے سے خطاب کرنے کے بعد جارہے تھے کہ تحریک لبیک سے تعلق رکھنے والے ایک قاتل نے ان پر گولیاں برسائیں۔ انھیں شدید زخمی حالت میں ہیلی کاپٹر میں نارووال سے لاہور منتقل کیا گیا جہاں ان کی سرجری کی گئی اور وہ روبہ صحت ہوگئے۔ واضح رہے کہ احسن اقبال نے نومبر 2017  میں تحریک لبیک کے احتجاج کے خلاف، سینیٹ کو اعتماد میں لیے بغیر، کریک ڈاؤن کیا تھا۔