رانا ثنا اللہ

image description

تعارف

رانا ثنا اللہ

سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ  مسلم لیگ ن کے رہنما اورسابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے کزن ہیں، ان کے سیاسی کیرئر کا آغا ز سنہ 1990 میں ہوا تھا۔

رانا ثنا اللہ صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ پیشے کے لحاظ سے وہ وکیل ہیں اور بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنے وکالت کے عرصے کے دوران وہ کچھ عرصہ کے لیے جیل میں بھی قید رہے۔

انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز سنہ 1990 سے کیا جب وہ پہلی بار مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس وقت انہوں نے ایوان میں سنہ 1993 تک ڈپٹی اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

وہ 1997 سے 1999 اور 2002 سے 2007 کے عرصے کے دوران بھی رکن صوبائی اسمبلی رہے۔ 2002 سے 2007 کے درمیان انہوں نے ایک بار پھر ڈپٹی اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر کام کیا۔

سنہ 2013 کے انتخابات میں وہ پھر رکن اسمبلی بنے اور اس بار انہیں صوبائی وزیر برائے قانون اور پارلیمانی امور مقرر کیا گیا۔

رانا ثنا اللہ کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

17 جون 2014 کو پاکستان عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری کی پاکستان آمد کے موقع پر جب ان کے ادارے منہاج القرآن میں ان کے استقبال کی تیاریاں کی جارہی تھیں تو پنجاب پولیس نے ماڈل ٹاؤن میں ان کی رہائش گاہ اور دفتر کے باہر لگے بیریئرز کو ہٹانے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا۔

اس موقع پر عوامی تحریک کے قائدین نے پولیس سے مذاکرات کی کوشش کی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا، اگلے دن پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنان آمنے سامنے آگئے جس پر پولیس نے آنسو گیس شیل پھینکے اور لاٹھی چارج کیا۔

بعد ازاں پولیس نے فائرنگ بھی کی جس میں خواتین سمیت 14 افراد جاں بحق ہوئے۔

واقعے کی ذمہ داری رانا ثنا اللہ پر عائد کی گئی جن کی ایک فون کال بھی منظر عام پر آئی جس میں وہ مظاہرین کو ’سبق سکھانے‘ کا حکم دے رہے تھے۔

21 جولائی کو سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے رانا ثنا اللہ سے استعفیٰ لے لیا۔سانحہ ماڈل ٹاؤن پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی جس نے واقعے کی تحقیقات کیں۔مئی 2015 میں رانا ثنا اللہ کو دوبارہ وزیر قانون مقرر کردیا گیا۔