خواجہ سعد رفیق

image description

تعارف

خواجہ سعد رفیق


مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما خواجہ سعد رفیق چار نومبر 1962 کو پنجاب کے شہر لاہور میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ایم اے او کالج میں میں داخلہ لیا لیکن پھر 1982 میں پنجاب یونی ورسٹی ٹرانسفر کرالیا۔ 1984 میں انھوں نے پولیٹکل سائنس میں بی اے کیا اور پھر 86 میں ایم اے کرلیا۔

خاندان

خواجہ سعد رفیق کے والد خواجہ محمد رفیق لاہور کے ایک چھوٹے بزنس مین تھے۔ 1970 میں انھیں قتل کیا گیا، خاندان والوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو اس جرم کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

ان کی بیوی غزالہ سعد رفیق بھی پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی رکن رہی ہیں، جب کہ بھائی خواجہ سلمان رفیق بھی صوبائی اسمبلی رکن رہے اور صوبائی وزیر برائے صحت کے عہدے پر تعینات تھے۔

سیاسی زندگی

خواجہ سعد رفیق نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز اسیّ کی دہائی کے شروع میں کیا تھا، وہ ایم اے او کالج لاہور میں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی طرف سے اسٹوڈنٹ لیڈر تھے، بعد میں انھوں نے پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ میں شمولیت اختیار کرلی۔

خواجہ سعد رفیق نے پاکستان کی انتخابی سیاست میں پہلی بار حصہ 1997 میں لیا، انھوں نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے انتخاب لڑا اور پہلی بار ہی میں جیت کر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے رکن بن گئے۔ انھیں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے یوتھ افیئرز کے لیے اپنا خصوصی معاون مقرر کیا۔ تاہم یہ دورانیہ زیادہ نہیں رہا کیوں کہ 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے نواز حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار کر قبضہ جمالیا۔ خواجہ سعد رفیق ان سیاست دانوں میں شامل ہیں جنھوں نے نواز شریف کی غیر موجودگی میں مشرف کا سامنا کیا۔

دوسری بار انھوں نے قومی اسمبلی کی سیٹ کے لیے انتخاب لڑا۔ یہ 2002 کے عام انتخابات تھے جب وہ انتخابی حلقے NA-119 سے جیت کر قومی اسمبلی کے رکن بنے۔ اس دوران ان کی سیاست میں ایک بڑا موڑ آیا۔ انھیں مسلم لیگ ن پنجاب کا صدر مقرر کر دیا گیا۔

پاکستان میں 2008 میں ہونے والے عام انتخابات میں خواجہ سعد رفیق دوسری بار قومی اسمبلی کے لیے انتخاب جیت کر رکن بنے۔ اس بار ان کا انتخابی حلقہ تھا NA-125۔ انھوں نے بھاری اکثریت سے تحریک انصاف کے امیدوار کو شکست دی۔ یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ میں انھیں وزیر برائے ثقافت اور وزیر برائے یوتھ افیئرز مقرر کیا گیا، لیکن انھوں نے وکلا کی عدلیہ بحالی تحریک میں کردار ادا کرنے کے لیے ان عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔

خواجہ سعد رفیق نے مشرف کو اقتدار سے ہٹانے اور وکلا کی بحالی کے لیے پارٹی کے کارکنوں اور وکلا کے ساتھ سڑکوں پر بھی احتجاج میں بھرپور حصہ لیا جس کے نتیجے میں انھیں گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا، انھوں نے ن لیگ کو اس کڑے دور میں بھی زندہ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

2013 کے عام انتخابات میں وہ تیسری بار جیت کر قومی اسمبلی میں پہنچے۔ اس بار ان کی اہلیہ غزالہ سعد کو بھی پارٹی کا ٹکٹ دیا گیا۔ جون 2013 میں وزیر اعظم نواز شریف نے انھیں ملک کا بدحال ریلوے سسٹم حوالے کردیا، اور وہ ریلوے وزیر بن گئے۔ جولائی 2017 میں پاناما پیپر کیس میں جب وزیر اعظم نواز شریف مستعفی ہوئے تو وفاقی کابینہ تحلیل ہوگئی، تب سعد رفیق کو بھی اپنی وزارت چھوڑنی پڑی۔ اس کے بعد شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم منتخب ہوئے تو وہ دوسری مرتبہ وزیر ریلوے مقرر کیے گئے۔ اس بار وہ ن لیگ کی حکومت کے آخری دن 31 مئی 2018 تک عہدے پر تعینات رہے۔