خواجہ محمد آصف

image description

تعارف

خواجہ محمد آصف


خواجہ محمد آصف سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاست دان ہیں، جو پاکستان مسلم لیگ ن سے وابستہ ہیں، وہ قومی اسمبلی کے کئی بار رکن رہے۔ 2013ء میں ن لیگ نے انہیں اُس وقت وزیر دفاع مقرر کیا جب عدالت نے وزیر دفاع کو طلب کیا اور وزیر اعظم نواز شریف اس وزارت کا قلمدان اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔

خواجہ آصف پیشےکے لحاظ سے ایک بینکار ہیں اور سنہ 1991 تک مختلف بینکوں میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

سیاسی سفر

سنہ 1991 میں انہیں مسلم لیگ ن  نے سینیٹر کی سیٹ پر منتخب کرایا، بعد ازاں 1993 کے عام انتخابات میں  وہ حلقہ این اے 110 سیالکوٹ  سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

سنہ 1997 میں وہ ایک بار  پھر قومی اسمبلی میں پہنچے، جہاں انہیں  نجکاری کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ جنرل مشرف کے ہاتھوں حکومت کی برطرفی کے ساتھ ہی ان کا عہدہ بھی ختم ہوگیا۔

مشرف دور میں قومی احتساب بیورو نے انہیں اپنی تحویل میں لیا تاہم کسی بھی قسم کا ثبوت نے ملنے کے سبب انہیں آزاد کردیا گیا تھا، اس دورمیں انہوں نے مسلم لیگ ن کو زندہ رکھنے کے لیے بے پناہ کاوشیں کی ہیں۔

سنہ 2002 اور 2008 میں بھی وہ اپنے حلقے سے فتح یاب ہوئے اور پیپلز پارٹی کی اتحادی مخلوط حکومت میں وزیر پیٹرولیم مقرر کیے گئے تاہم  بعد ازاں ان کی جماعت اس اتحاد سے الگ ہوگئی۔

سنہ 2013 کے عام انتخابات میں خواجہ آصف پانچویں مرتبہ قومی اسمبلی کےممبر منتخب ہوئے اور انہیں وزیر پانی و بجلی کا منصب دیا گیا اور اسی سال دسمبر میں انہیں وزیردفاع کا اضافی چارج بھی دیا گیا۔

جولائی 2017 میں میا ں نواز شریف کی نا اہلی کے سبب کابینہ تحلیل ہوگئی اور اس کے بعد شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم مقرر ہوئے ۔ انہوں نے خواجہ آصف کو وزارتِ خارجہ کے قلم دان سے نوازا۔ اپریل 2018 میں انہیں  اسلام آباد ہائی کورٹ نے یو اے ای کے اقامے کے سبب تا حیات نا اہل کردیا تاہم سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔