طلال چوہدری

image description

تعارف

طلال چوہدری

طلال چوہدری 19 اگست 1973 کو پیدا ہوئے آپ نے اپنی تعلیمی قابلیت مکمل کرنے کے بعد سن 2000 سے سیاسی میدان میں قدم رکھا اور پھر مختلف مراحل طے کرتے ہوئے آپ گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے  ٹکٹ پر فیصل آباد کے دوسرے قومی اسمبلی کے حلقے 76 سے کامیاب ہوکر اسمبلی رکن بنے۔

طلال چوہدری کے بارے میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آپ 2002 میں مسلم لیگ ق کے کارکن تھے اور اُن کے رہنما چوہدری پرویز الہیٰ کی گاڑی کے آگے کچھ مواقعوں پر خوشی سے رقص کرتے دکھائی دیے۔

سیاسی کیریئر

لال پور سے تعلق رکھنے والے طلال چوہدری نے 2008 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے  ٹکٹ پر فیصل آباد کے تیسرے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 77 سے الیکشن لڑا مگر اُس میں آپ کو شکست کا سامنا رہا اور پیپلزپارٹی کے امیدوار محمد عاصم نظیر کامیاب قرار پائے۔

سن 2008 کے الیکشن میں طلال چوہدری نے صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 53 اور پی پی 55 سے بھی بطور امیدوار انتخاب لڑا مگر تینوں جگہ سے ہی آپ کامیاب نہ ہوسکے، آپ نے بالترتیب 35 اور 92 ووٹ حاصل کیے۔

طلال چوہدری نے 2003 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ حاصل کیا اور قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-76 (فیصل آباد-2) سے انتخابی معرکہ لڑا جس میں آپ کو کامیابی حاصل ہوئی۔

کن کن عہدوں پر فائض رہے

مسلم لیگ ن 2013 کے بعد حکومت بنائی تو نے وفاقی پارلیمانی کمیٹی برائے ٹیکنالوجی و اطلاعات اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سیکریٹری کے طور پر امور سرانجام دیے۔

نوازشریف کی نااہلی کے بعد جب اگست 2017 میں شاہد خاقان عباسی نے وزارتِ عظمی کا حلف سنبھالا تو آپ کو وزیر مملکت برائے داخلہ کا عہدہ دیا گیا جو حکومتی مدت ختم ہونے کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔

سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے خلاف سپریم کورٹ میں چلنے والے مقدمے کے دوران آپ نے عدالتی فیصلوں پر تنقید کی جس پر سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس دے کر آپ کو طلب کیا اور پھر آپ نے معزز جج صاحبان سے معافی مانگی۔

واضح رہے کہ آپ نے بطور سیکریٹری داخلہ سرکاری پریس کانفرنس کی تھی جس میں چیف جسٹس آف پاکستان کے اوپر شدید تنقدید، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے جج جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے تھے آپ کی بات الفاظ اور لہجہ عدلیہ مخالف تھا، یہ الفاظ توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں۔

توہین عدالت کیس

طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت 19 جون کو ہوگی اور ممکنہ طور پرسپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ اپنا فیصلہ سنائے گا۔