طارق فضل چوہدری

image description

تعارف

طارق فضل چوہدری


ڈاکٹرطارق فضل چوہدری 6 جولائی 1969ء کو اسلام آباد میں چوہدری فضل داد کے گھرپیدا ہوئے۔ ان کے آباؤ اجداد اسلام آباد کے پرانے باسی ہیں اور ان کا تعلق گاؤں سہانا سے ہے جو چک شہزاد میں واقع ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما ڈاکٹرطارق فضل چوہدری نے ابتدائی تعلیم ایف جی ماڈل اسکول اسلام آباد سے حاصل کی اور انہوں نے انٹرمیڈیٹ پری میڈیکل کا امتحان ایف جی سرسید کالج مال روڈ راولپنڈی سے پاس کیا۔

طارق فضل چوہدری راولپنڈی میڈیکل کالج میں 1988ء سے 1993ء تک زیرتعلیم رہے جہاں سے انہوں نے ایم بی بی ایس کیا اور ہاؤس جاب ڈاکٹرمصدق خان سرجن کے ہمراہ آرجی ایچ اسپتال سے مکمل کی۔ انہوں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں اپنا پرائیوٹ اسپتال قائم کیا۔

سیاسی سفر

مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری گزشتہ تین نسلوں ان کے دادا حاجی سکندر کے دور سے مسلم لیگی ہیں۔ انہوں نے 2002ء میں اسلام آباد کے حلقہ این اے 49 سے پہلی مرتبہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پرانتخابات میں حصہ لیا اور پیپلزپارٹی کے نیئرحسین بخاری سے شکست کھائی۔

انہوں نے دوسری بار 2008ء کے عام انتخابات میں این اے 49 سے الیکشن لڑا اور 45 ہزار482 ووٹ لے کر پیپلزپارٹی کے امیدوار نیئرحسین بخاری کو شکست دی۔ 2013ء کے انتخابات میں 94 ہزار 106 ووٹ لے کر پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کو شکست دی اور دوسری بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

2015ء میں نوازشریف کے تیسرے دور حکومت میں انہیں وفاقی کابینہ میں وزارت کیپٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (کیڈ) کے قلمدان کے تحت کام کرنے کا موقع ملا۔

جولائی 2017ء میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تو شاہد خاقان عباسی نے ان کی جگہ وزیراعظم کا حلف اٹھایا ۔ ڈاکٹرطارق فضل چوہدری کو نئی کابینہ میں وزارت کیپٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ کا قلمدان ہی سونپا گیا۔

طارق فضل چوہدری کی مسلم لیگ ن میں خدمات

مسلم لیگ ن کے رہنما ڈاکٹرطارق فضل چوہدری 2004ء میں اسلام آباد کے پارٹی صدر بنائے گئے وہ مرکزی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے رکن اور سینٹرل پارلیمنٹری بورڈ مسلم لیگ ن کے رکن ہیں۔

پرویز مشرف کے دور میں 2005ء میں ان کی رہائش گاہ ایف ایٹ اسلام آباد کو مسلم لیگ ن کا صدردفتربنایا گیا وہ مشرف دور میں مشکلات اور مصائب کے باوجود ثابت قدم رہے اور ڈٹے رہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے وفاقی وزیرکیڈ طارق فضل چوہدری کے خلاف اپنی وزارت کے ماتحت محکموں میں مبینہ کرپشن شکایت پرانکوائری کررہی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل رواں سال 17 اپریل کو چیئرمین نیب نے ڈاکٹرطارق فضل چوہدری کے خلاف فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، اسپیشل ایجوکیشن اور پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) میں مبینہ طورپربدعنوانی اور خرد برد کی شکایت کا نوٹس لے کر نیب راولپنڈی کو انکوائری کا حکم دیا تھا۔