زاہد حامد

image description

تعارف

زاہد حامد

اکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سیاست دان زاہد حامد 24 اکتوبر 1947 کو پنجاب کے شہر لاہور میں پیدا ہوئے۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ اسی مناسبت سے انھوں نے نواز شریف کی تیسری حکومت میں وزارت قانون و انصاف کا منصب سنبھالا۔

ان کے والد حامد نواز قومی اسمبلی کے دو بار ممبر رہے، پاکستان آرمی میں خدمات انجام دیں اور 1975 میں فوج سے بریگیڈیئر کی حیثیت سے ریٹارئر ہوئے۔ فارن سروس میں خدمات انجام دیتے ہوئے وہ مختلف ممالک میں سفیر بھی تعینات ہوئے۔ ان کے بھائی شاہد حامد بھی پاکستان مسلم لیگ کے سینئر لیڈرز میں سے تھے اور 1997 میں گورنر پنجاب بھی رہے۔

مقامی اسکول سے فراغت کے بعد زاہد حامد نے پنجاب یونی ورسٹی میں قانون کے شعبے میں داخلہ لیا اور 1971 میں یہاں سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ برطانیہ چلے گئے اور وہاں کیمبرج یونی ورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ زاہد حامد نے کیمبرج سے فلسفے میں بی اے آنرز کیا اور پوسٹ گریجویٹ اسٹڈیز پر کام شروع کیا۔ یہاں سے انھوں نے ایم اے کی ڈگری بھی حاصل کرلی، ان کا مقالہ قانون کے فلسفے کی مبادیات پر مشتمل تھا۔

زاہد حامد نے ہارورڈ یونی ورسٹی کے بزنس اسکول میں منیجمنٹ پر منعقد ہونے والے سیمینارز میں بھی شرکت کی۔ بعد ازاں اٹلی کے شہر روم میں انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ لا آرگنائزیشن سے قانون کے شعبے میں اسپیشلائزیشن کی۔

پیشہ ورانہ اور سیاسی زندگی

زاہد حامد کی سیاسی زندگی کی ابتدا یوں ہوئی کہ 1970 میں انھوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور سینٹرل سپیرئیر سروسز میں شمولیت اختیار کرکے پنجاب کی صوبائی حکومت کے ساتھ کام شروع کیا، لیکن 1978 میں مستعفی ہوکر سیاست میں آگئے۔ انھوں نے 1978 سے 1988 تک فوڈ سیکٹر میں دو صنعتی یونٹس قائم کرکے منظم کیے۔

انھوں نے اپنا کیریئر ایک پیشہ ور وکیل کے طور پر شروع کی اور جلد ہی سپریم کورٹ آف پاکستان میں سینئر ایڈووکیٹ بن گئے۔ نوّے کی دہائی میں زاہد حامد نے انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی قائم کی جس کی وزیر اعظم نواز شریف نے دی اور 1988 میں زاہد حامد کو اس ادارے کا پہلا ڈائریکٹر جنرل بنایا گیا، یہ عہدہ ان کے پاس جنرل پرویز مشرف کی سیاست پر شب خون مارے جانے تک رہا۔


1997 میں زاہد حامد نے قومی اسمبلی کی سیٹ کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے انتخابات میں حصہ لیا لیکن ناکام رہے۔ حکومت پر فوجی قبضے کے بعد وہ منحرف ہوکر ن لیگ کی تانگہ پارٹی میں شامل ہوگئے جس کی قیادت شجاعت حسین کر رہے تھے، اور 2002 میں عام انتخابات میں NA-114 سے دوسری کوشش پر کام یاب ہوگئے۔ 2004 سے 2007 کے درمیان وہ وزیر برائے دفاع، سرمایہ کاری اور نج کاری رہے اور 2008 میں انھیں وزیر قانون بنادیا گیا۔


2008 میں زاہد حامد ن لیگ میں شامل ہوئے، اور 2013 تک وہ پاکستان مسلم لیگ ن کے متحرک رکن رہے جب کہ پارٹی اس وقت قومی اسمبلی میں اپوزیشن میں تھی۔ 2013 کے عام انتخابات میں NA-114 سے وہ ایک بار پھر کام یاب ہوکر قومی اسمبلی میں پہنچے اور انھیں وزیر قانون کا منصب سونپا گیا تاہم پرویز مشرف کے غداری کیس کی وجہ سے انھیں وزارت سائنس کا قلم دان دیا گیا تاہم خصوصی عدالت کی طرف سے انھیں مشرف غداری کیس میں شامل کرنے پر انھوں نے فوری طور پر وزیر اعظم نواز شریف کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔

نومبر 2015 میں انھیں ماحولیاتی تبدیلی کے شعبے کی وزارت سونپی گئی، 2016 میں وزارت قانون و انصاف کا قلم دان بھی سونپ دیا گیا، یہ مناصب ان کے پاس وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی تک رہے۔ شاہد خاقان عباسی کے وزیر اعظم بننے کے بعد اگست 2017 میں وہ ایک بار پھر وفاقی کابینہ میں شامل ہوگئے اور وزارت قانون و انصاف کا قلم دان انھیں پھر سونپا گیا، یہاں تک کہ نومبر 2017 میں تحریک لبیک کے احتجاج کے بعد انھیں یہ وزارت چھوڑنی پڑی۔