شیخ روحیل اصغر‬‎

image description

تعارف

شیخ روحیل اصغر‬‎


شیخ روحیل اصغر 24 اکتوبر 1952 کو داروغہ والا میں شیخ محمد اصغر کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک معزز اور پڑھے لکھے خاندان سے ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے قومی اسمبلی کے رکن بنے۔ ان کا خاندان لاہور کا بڑا سیاسی خاندان کہلاتا ہے، ان کے والد پنجاب اسمبلی کے رکن تھے، اپنے حلقے پر ان کا مضبوط کنٹرول تھا تاہم باغبان پورہ کے حریف ماجا سکھ گروپ کے ساتھ طویل دشمنی کے نتیجے میں قتل ہوئے۔

شیخ روحیل کے بھائی بھی ایم پی اے تھے، وہ بھی قتل ہوئے۔ ان کے بیٹے خرم روحیل اصغر بھی سیاست میں سرگرم ہیں اور مسلم لیگ ن یوتھ ونگ لاہور کے صدر ہیں۔ شیخ روحیل کا اپنے حلقے پر مضبوط کنٹرول ہے جس کی وجہ سے وہ گزشتہ دو الیکشن بھاری لیڈ سے جیت چکے ہیں۔ ان کی فیکٹری ’سنی بسکٹ فیکٹری‘ داروغہ والا میں قائم ہے جو ان کا سیاسی مرکز بھی ہے۔

اسمبلیوں میں آمد

شیخ روحیل اصغر لاہور سے تعلق رکھنے والے ن لیگی سیاست دان ہیں، انھوں نے قومی و صوبائی دونوں اسمبلیوں میں خدمات انجام دیں۔ 1985 سے 1988 تک وہ قومی اسمبلی کے رکن رہے، اور 1990 سے 1993 تک صوبائی اسمبلی میں رہے، اس کے بعد 2008 سے مئی 2018 تک پھر قومی اسمبلی کے رکن رہے۔

سیاسی زندگی

انھوں نے 1985 میں پاکستان کے عام انتخابات میں حصہ لیا، اور لاہور کے انتخابی حلقے این اے 83 سے منتخب ہو کر پہلی بار قومی اسمبلی میں پہنچے۔ دوسری مرتبہ انھوں نے این اے 93 سے انتخاب لڑا لیکن اس بار انھیں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کی طرف سے ٹکٹ ملا تھا۔ یہ 1988 کے عام انتخابات تھے، جس میں انھوں نے اعتزاز احسن کے مقابلے میں سیٹ ہار دی۔

1990 کے عام انتخابات میں وہ ایک بار پھر آئی جے آئی کے ٹکٹ سے صوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 118 سے الیکش لڑ رہے تھے، تاہم اس بار وہ جیت کر صوبائی اسمبلی پہنچ گئے۔ انھوں نے پاکستان ڈیموکریٹک الائنس کے امیدوار میاں عزیز الرحمٰن چن کو ہرایا۔ 1993 کے عام انتخابات میں انھوں نے پی پی 118 لاہور سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا، اور اس بار بھی ناکام رہے۔ اس بار انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد حنیف رامے کے مقابلے میں اپنی سیٹ ہاری۔

شیخ روحیل اصغر نے پی پی 118 لاہور کے حلقے سے 1997 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے انتخاب لڑا لیکن اس بار بھی ناکام ہوئے، اس بار انھوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار حاجی امداد حسین کے مقابلے میں اپنی سیٹ ہاری۔ ان مقابلوں کے دوران وہ سیاسی داؤ پیچ کو اچھی طرح سمجھ گئے تھے اس لیے جب پیپلز پارٹی سے ہارے تو اگلی بار اسی پارٹی سے کھڑے ہوئے لیکن بد قسمتی سے ن لیگ سے مقابلہ ہوا، چناں چہ مسلم لیگ ن سے ہارے تو اگلی بار اسی پارٹی سے کھڑے ہوگئے۔

2008 کے عام انتخابات میں وہ این اے 124 کے حلقے سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کھڑے ہوئے، اور اس بار پیپلز پارٹی کے امیدوار ایاز عمران کو شکست دیتے ہوئے دوسری بار قومی اسمبلی میں پہنچنے میں کام یاب رہے۔ اپنے مذکورہ حلقے سے وہ 2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے انتخاب لڑتے ہوئے تیسری مرتبہ قومی اسمبلی پہنچے۔ اس بار انھوں نے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ولید اقبال کو بھاری ووٹوں سے شکست دی۔