چوہدری نثار علی خان

image description

تعارف

چوہدری نثار علی خان

چوہدری نثارعلی خان کا شمار ملک کے سینیئر سیاست دانوں میں ہوتا ہے اور وہ ان گنے چنے ارکان اسمبلی میں شامل ہیں جو 1985ء سے لے کر 2013ء تک تمام الیکشنزجیتے ہیں۔

تعلیمی سفر

چوہدری نثار علی خان 31 جولائی 1954ء کو راولپنڈی میں بریگیڈئیر ریٹائرڈ فتح خان کے گھر پیدا ہوئے انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور لاہور جبکہ اعلیٰ تعلیم ایجی سن کالج اور آرمی برن ہال کالج سے حاصل کی۔

سیاسی سفر

انہوں نے 1980ء کی دہائی میں سیاست میں قدم رکھا اور 1985 میں پہلی مرتبہ راولپنڈی کے حلقہ این اے 52 سے الیکشن جیت کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

31 سال کی عمر میں قومی اسمبلی کا انتخاب جیت کرقومی سطح پراپنی سیاست کا آغاز کرنے والے چوہدری نثارعلی خان 1988ء کے انتخابات میں دوسری بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور انہیں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا وزیر بنایا گیا۔

چوہدری نثار علی خان 1990ء میں تیسری مرتبہ، 1993ء میں چوتھی اور 1997ء میں پانچویں بار قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1993ء اور 1997ء کی وفاقی کابینہ میں انہیں وزیرپٹرولیم وقدرتی وسالئل کا قلمدان سونپا گیا۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 1999ء میں جب مارشل لاء لگایا تب بھی چوہدری نثار نے نوازشریف سے اپنا سیاسی تعلق ختم نہ کیا اور 2002ء کے عام انتخابات میں راولپنڈی کے حلقہ این اے 52 سے کامیابی حاصل کی لیکن این اے 53 کی نشست پرالیکشن ہارگئے۔

چوہدری نثار علی خان نے 2008ء کے انتخابات میں راولپنڈی کے حلقہ این اے 52 اور 53 سے الیکشن لڑا اور قومی اسمبلی کی دونوں نشتوں پرکامیابی حاصل کی۔ انہوں نے قومی اسمبلی کی این اے 53 کی نشست کو برقرار رکھنے کے لیے این اے 52 کی نشت کو خالی کردیا۔

2008ء میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی اتحادی حکومت بنی تو چوہدری نثارعلی خان کو وزیرخوراک وپیدوارکا قلمدان سونپا گیا۔ مسلم لیگ (ن) چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری تحریک کے باعث پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت سے الگ ہوئی تو انہوں نے بھی استعفیٰ دے دیا۔

بعدازاں چوہدری نثار علی خان کو چوہدری پرویز الہیٰ کی جگہ قائد حزب اختلاف مقررکیا گیا اور وہ اس دوران پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے پہلے چیئرپرسن بھی بنے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے قیام کا مقصد حکومتی معاملات کی شفافیت پرنظررکھنا تھا لیکن کرپشن کے معاملات پراختلافات کے باعث انہوں نے نومبر2011ء کو عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

2013 کے عام انتخابات میں چوہدری نثار علی خان نے راولپنڈی کے حلقہ این اے 52 سے الیکشن لڑا اور کامیابی حاصل کی مسلم لیگ ن کی 2013ء میں حکومت بنی تو انہیں وزیرداخلہ کا اہم قلمدان سونپا گیا۔

چوہدری نثار علی خان کے بارے میں یہ رائے قائم کی جاتی ہے کہ وہ اعلیٰ عسکری حلقوں کے انتہائی قریب ہیں۔

رواں سال فروری میں اس قسم کی خبریں میڈیا کی زینت بنی تھیں کہ نوازشریف نے اپنے دیرینہ ساتھی چوہدری نثار علی خان سے راہیں جدا کرلی ہیں اور انہین ن لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت نہ دینے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔

دوسری جانب چوہدری نثار نے بھی مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت سے اپنے تحفظات کا کھلے عام اعتراف کیا تھا اور انہوں نے متعدد مقامات پر نوازشریف کو مشورہ دیا تھا کہ عدالتی فیصلے کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار نہ کی جائے لیکن مسلم لیگ ن کے قائد نے اس مشورے کو نظرانداز کرتے ہوئے چوہدری نثار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

چوہدری نثار اور نوازشریف کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے مارچ 2018 سے اپریل 20 تک ایک ماہ کے دوران چوہدری نثار سے پانچویں ملاقات کی تھی۔

شہبازشریف کی چوہدری نثار سے کی گئیں ملاقاتیں بھی نوازشریف اور چوہدری نثار کے درمیان کشیدگی کو کم نہ کرسکیں اور بالاخر چوہدری نثار نے الیکشن میں آزاد امیدوار کے طور پرحصہ لینے کا اعلان کیا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے گزشتہ ماہ جون میں مسلم لیگ ن کے سابق رہنما چوہدری نثار کو جیپ کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا۔

سابق وزیرداخلہ 2018 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 59، این اے 63 اور پنجاب اسمبلی کی 4 سیٹوں پرالیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 59 میں چوہدری نثارعلی خان کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے امیدوار قمرالاسلام سے ہے جو کرپشن کے الزام میں گرفتار ہیں اور این اے 63 میں ان کا مقابلہ پی ٹی آئی کے امیدوار غلام سرور سے ہے۔

واضح رہے کہ چوہدری نثار علی خان نے 2013ء کے انتخابات میں راولپنڈی کے حلقہ این اے 52 سے کامیابی حاصل کی تھی تاہم نئی حلقہ بندیوں کے بعد اب یہ حلقہ این اے 59 ہوچکا ہے۔