سردار محمد یوسف

image description

تعارف

سردار محمد یوسف

مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے سردار محمد یوسف یکم جون 1952 کو سردار شاہ زمان کے گھر پیدا ہوئے انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی کاؤں جالگلی سے حاصل کی جس کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول بٹل سے میٹرک پاس کیا۔

سیاسی سفر

سردارمحمد یوسف نے 1985ء کےعام انتخابات میں خیبرپختونخواہ کے حلقہ پی کے 45 مانسہرہ سے بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑا اور رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔

انہوں نے 1988ء کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے45 اور قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 16 سے الیکشن لڑا لیکن دونوں نشتوں پران کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

سردار محمد یوسف نے 1990ء کے عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 45 سے الیکشن لڑا اور فیاض محمد خان کو شکست دی اور اسی الیکشن میں انہوں نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 14 32 ہزار 787 ووٹ لے کرجمیعت علمائے اسلام کے امیدوار کو شکست دی۔

1993ء کے انتخابات میں انہوں نے خیبرپخونخواہ کے حلقہ پی کے 45 پرالیکشن لڑا اور انہیں آزاد امیدوار حق نوار خان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی الیکشن میں انہوں نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 14 سے الیکشن لڑا اور58 ہزار191 ووٹ حاصل کیے اور مسلم لیگ جونجیو کے امیدوار کو شکست دی۔

سردار محمد یوسف نے 1997ء کے عام انتخابات میں مانسہرہ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 14 سے الیکشن لڑا اور 46 ہزار918 ووٹ لے کر جے یو آئی ف کے امیدوار کو شکست دی۔

1999ء کے مارشل لاء کے بعد سردار محمد یوسف نے مسلم لیگ ن کو خیرباد کہہ کر پاکستان مسلم لیگ ق میں شمولیت اختیار کی لیکن وہ 2002ء اور2008ء کے عام انتخابات میں گریجویشن کی ڈگری کی شرط ہونے کے باعث الیکشن میں حصہ نہ لے سکے۔

سردار محمد یوسف نے سال 2013 ء کے آغازمیں پاکستان مسلم لیگ ق سے دوبارہ مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی اور 2013ء کے عام انتخابات میں مانسہرہ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 20 سے الیکشن لڑا۔

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف تیسری دفعہ ملک کے وزیراعظم بنے تو انہوں نے وفاقی کابینہ میں سردار محمد یوسف کو وفاقی وزیر برائے مذہبی امور مقرر کیا۔

جولائی 2017ء میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تو شاہد خاقان عباسی نے ان کی جگہ وزیراعظم کا حلف اٹھایا ۔ سردار محمد یوسف کو نئی کابینہ میں وزارت مذہبی امور کا قلمدان سونپا گیا۔