سردار ایاز صادق

image description

تعارف

سردار ایاز صادق


سردار ایاز صادق 17 اکتوبر 1954 کو پنجاب کے شہر لاہور میں پیدا ہوئے، وہ قصور کے ایک اہم کاروباری آریائی خاندان کے چشم و چراغ تھے، یہ خاندان یہاں 1947 میں آکر آباد ہوا تھا۔ ان کے والد شیخ محمد صادق اپنے وقت کی نہ ایک بڑی کاروباری شخصیت تھے اور بے حد انسان دوست بھی تھے۔ انسان دوستی کا یہی جذبہ ان کی اہلیہ بیگم عطیہ صادق میں بھی موجود تھا۔

ایاز صادق کے دادا شیخ سردار محمد اپنے وقت کے مصلح تھے، انھوں نے لاہور میں لڑکیوں کے لیے ’شیخ سردار گرلز ہائی اسکول‘ کے نام سے پہلا اسکول قائم کیا، وہ ساٹھ کی دہائی میں لاہور کے ڈپٹی میئر بھی منتخب ہوئے۔ وہ بہادر آدمی تھے، انھوں نے فوجی ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کی جدوجہد کا بھی ساتھ دیا اور نتیجے میں فوجی حکومت کے قہر کا شکار ہو کر گرفتار ہوئے۔ ان کی یاد میں خاندان والوں نے سولہ اکتوبر 1994 میں غریبوں کے لیے ’سردار ٹرسٹ آئی اسپتال‘ قائم کیا جہاں آنکھ کے قرنیے کی ٹرانسپلانٹ بالکل مفت ہوتی ہے۔

سردار ایاز صادق کی شادی 1977 میں ریما ایاز سے ہوئی جن کی شہرت ایک سرگرم سماجی کارکن کے طور پر پورے ملک میں پھیلی ہوئی تھی۔ ریما ایاز پاکستان کے پہلے وفاقی محتسب اور جسٹس ریٹائرڈ سردار محمد اقبال کی بیٹی ہیں۔ ایاز صادق کے بچوں میں ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔

تعلیم اور ابتدائی زندگی

ان کا تعلق ایک سیلف میڈ کاروباری خاندان سے ہے جہاں تعلیم اور اخلاقیات پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے، ایک طرف انھیں ایچی سن کالج لاہور جیسے باوقار ادارے میں تعلیم کے لیے بھیجا گیا دوسری طرف ان کی والدہ نے ان کی تربیت ایک سخت مذہبی اور اخلاقی اور سماجی اقدار والے ماحول میں کی۔ سینئر کیمبرج کے بعد ایاز صادق پنجاب یونی ورسٹی کے ہیلے کالج آف کامرس گئے جہاں سے انھوں ںے کامرس میں بی اے مکمل کیا۔ وہ اس دوران کالج کرکٹ اور ہاکی ٹیم کے کھلاڑی بھی رہے اور لاہور کے جونئر ٹیبل ٹینس چیمپئن بھی۔

سیاسی زندگی

سردار ایاز صادق تعلیم کی تکمیل کے بعد خاندانی کاروبار میں شامل ہوگئے اور خاندانی روایت کے عین مطابق سماجی بہبود کی سرگرمیاں شروع کردیں۔ اس دوران انھیں عام لوگوں کے مسائل کا شدت سے احساس ہوا اور وہ سیاسی جدوجہد کی طرف مائل ہوگئے۔ یوں وہ 1997 میں ملک کے مرکزی دھارے کی سیاست میں داخل ہوئے اور بعد میں یکم فروری 2001 کو پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی۔

مسلم لیگ ن کے ساتھ وابستگی کی قیمت بھی انھوں نے ادا کی، حکومت پر مشرف کے قبضے کے دوران گرفتار بھی ہوئے۔ انھوں نے مرکزی عاملہ کمیٹی کے رکن ہونے اور ن لیگ کے مرکزی مالیاتی سیکریٹری ہونے کے ناطے پارٹی کو نہایت خوش اسلوبی سے ہر سطح پر منظم کیا۔

2002 میں انھوں نے لاہور سے صوبائی اور قومی دونوں سیٹوں پر انتخاب جیتا اور پارلیمنٹ میں پہلی بار داخل ہوئے۔ انھوں نے فنانس، ریلوے اور دفاعی پیداوار پر قائمہ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

2008 میں وہ دوسری بار قومی اسمبلی میں آئے، اس بار وہ ریلوے پر قائمہ کمیٹی کی چیئرمین منتخب ہوئے، وہ کشمیر پر پارلیمانی کمیٹی اورپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے بھی رکن رہے۔ اس دوران انھوں نے اس وقت کے اسپیکر کی پارلیمنٹری فرینڈ شپ گروپس کے تصور کے اصولوں کی تشکیل میں بہت مدد کی۔ وہ پاک جرمن پارلیمنٹری فرینڈ شپ گروپس کے کنوینر بھی رہے۔

بطور اسپیکر

2013 میں مسلسل تیسری مرتبہ وہ جیت کر پارلیمنٹ آئے۔ پارٹی اور پارلیمنٹ میں سابقہ خدمات کو دیکھتے ہوئے اس بار انھیں قومی اسمبلی کا اسپیکر نامزد کیا گیا، یہ انتخاب وہ دو تہائی اکثریت سے جیتے۔ انھوں نے ہاوٗس آف اسپیکر کو نئی عزت فراہم کی، ان کے غیر جانب دار رویے کی وجہ سے اس منصب کو کی عزت مستحکم ہوئی۔ انھوں نے حکمران اور اپوزیشن دونوں فریقین کو خوب چلایا۔

بہ طور اسپیکر انھوں نے ایوان اور سیکریٹریٹ کے قانونی اور انتظامی طریقہ کار میں کئی اصلاحاتی منصوبے شروع کیے، ان میں پارلیمانی امور کو خودکار بنانا، کمیٹی سسٹم کو مستحکم بنانا، سخت مسابقتی امتحان کے ذریعے میرٹ پر پالیسی کی تشکیل کا عمل متعارف کرانا، اور قومی اسمبلی میں ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کا قیام شامل ہیں۔