مولانا خادم رضوی

image description

تعارف

مولانا خادم رضوی


مولانا خادم حسین رضوی صوبہ پنجاب کے شہر اٹک میں 1966 میں پیدا ہوئے۔ سنہ 2015 میں انہوں نے تحریک لبیک پاکستان پارٹی کی بنیاد رکھی۔

خادم حسین سنہ 2006 میں ایک حادثے کے نتیجے میں دونوں ٹانگوں سے معذور ہوگئے جس کے بعد سے وہیل چیئر ان کی زندگی کا حصہ ہے۔مولانا خادم رضوی سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی کیس کے دنوں میں بے حد متحرک رہے۔

اس وقت وہ صوبہ پنجاب کے محکمہ اوقاف سے منسلک تھے اور اس دوران کھل کر ممتاز قادری کی حمایت میں اپنے نظریات کا اظہار کرتے رہے۔محکمے کی جانب سے انہیں کئی بار انتباہی نوٹس جاری کیا گیا لیکن وہ اپنے نظریات کی تشہیر سے باز نہ آئے جس کے بعد انہیں ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔

ملازمت سے ہاتھ دھو لینے کے بعد جنوری 2016 میں انہوں نے لاہور میں ممتاز قادری کی حمایت میں ریلی نکالی۔

اس ریلی کے لیے انہوں نے حکومت سے اجازت لینا ضروری نہیں سمجھا نتیجتاً پولیس نے واٹر کینن کے ذریعے ریلی کے شرکا کو منتشر کردیا۔

اسی سال مارچ میں ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد انہوں نے دیگر مذہبی جماعتوں بشمول سنی تحریک پاکستان کے ساتھ مارچ میں بھی شرکت کی اور ڈی چوک پر 4 دن تک دھرنا دیا۔

خادم رضوی نے انتخابات میں پہلی بار گزشتہ برس ستمبر میں حصہ لیا جب سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد ان کی خالی نشست این اے 120 پر ضمنی انتخاب منعقد ہوا۔

اس وقت ان کی پارٹی رجسٹرڈ نہیں تھی لہٰذا انہوں نے آزاد امیدوار شیخ اظہر حسین رضوی کی حمایت کی۔ مذکور امیدوار نے 7 ہزار 1 سو 30 ووٹ حاصل کیے۔

اس کے اگلے ماہ اکتوبر میں این اے 4 پشاور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار ڈاکٹر محمد امینی نے حصہ لیا اور 9 ہزار ووٹ حاصل کیے۔


خادم حسین رضوی کو ملک گیر شہرت اس وقت حاصل ہوئی جب گزشتہ برس نومبر میں آئین میں موجود ختم نبوت کی شق میں تبدیلی کی کوشش کی گئی۔ اس وقت خادم حسین رضوی اپنے کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد کے فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔


21 روزہ طویل اس دھرنے کا اختتام اس وقت ہوا جب حکومت کو ان کے مطالبات کے آگے جھکنا پڑا اور وزیر قانون زاہد حامد کو مستعفیٰ کردیا گیا۔ شق کو اس کی اصل حالت میں پہلے ہی بحال کردیا گیا تھا۔