سراج الحق

image description

تعارف

سراج الحق کا جماعت اسلامی کے امیر ہیں، وہ 5 ستمبر 1962 کو لوئردیر میں پیدا ہوئے، حالیہ سینیٹ انتخابات میں جماعت اسلامی کے سینیٹر منتخب ہوئے۔

ابتدائی تعلیم

سراج الحق نے ابتدائی تعلیم لوکل ہائی اسکول سے حاصل کی، انہوں نے پولیٹیکل سائنس کی تعلیم یونیورسٹی آف پشاور سے حاصل کی جبکہ 1990 میں یونیورسٹی آف پنجاب سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، تعلیمی مراحل کے دوران سراج الحق مولانا مودودی اور مولانا نعیم صدیقی کی کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔

ایوارڈ

سراج الحق کو 14 اگست 2014 کو فلاحی خدمات کے لیے صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا، جو انہوں نے صدر مملکت ممنون حسین سے وصول کیا۔

کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں

امیر جماعت اسلامی سراج الحق وہ واحد سیاست دان ہیں جن کا کوئی بینک اکاؤنٹ موجود نہیں ہے جس کی وجہ بینکوں کی جانب سے سود کا کاروبار بتائی جاتی ہے۔

انتخابات کا بائیکاٹ

جماعت اسلامی کی جانب سے اختلافات کے باعث 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا گیا تاہم 2013 کے عام انتخابات میں سراج الحق دوبارہ کامیابی حاصل کرکے اسمبلی کے رکن بنے۔

تحریک انصاف کی دھرنے کی مخالفت

سراج الحق کو پذیرائی اس وقت بھی ملی جب طاہر القادری اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے اسلام آباد میں نواز شریف حکومت کے خلاف دھرنا دیا گیا، سراج الحق نے موقف اپنایا تھا کہ جمہوریت کسی بھی قیمت پر ڈی ریل نہیں ہونا چاہئے۔

اصغر خان کیس

سپریم کورٹ میں اصغر خان قتل کیس میں انتخابی مہم کے دوران پیسے لینے الزام پر چیف جسٹس کی جانب سے نواز شریف اور سراج الحق سمیت دیگر سیاستدانوں کو جواب داخل کرنے کا حکم دیا گیا۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے جواب جمع کرواتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران کبھی کسی سے پیسے نہیں لیے۔

صوابی میں متحدہ مجلس عمل اتحاد میں پھوٹ پڑگئی

صوابی میں متحدہ مجلس عمل اتحاد میں پھوٹ پڑ گئی، جماعت اسلامی کا تمام حلقوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان، جے یو آئی ف کا بھی دو قومی اور پانچ صوبائی حلقوں کے لیے امیدواروں کا اعلان کردیا گیا، این اے 18 کے لیے مولانا فضل علی، این اے 19 کے لیے مولانا عطا الحق کو نامزد کیا گیا ہے، پی کے 43 پر سجاد جدون، پی پی 44 پر مولانا حسین احمد، پی کے 45 کی نشست کے لیے مولانا محمد امین دوست، پی کے 46 کے لیے مفتی نوید اور پی کے 47 کے لیے آفتاب خان کو نامزد کیا گیا ہے۔

سیاسی کیریئر

”اسلامی جمعیت طلبہ“ سے فراغت کے فوری بعد سراج الحق جماعت اسلامی سے منسلک ہوگئے اور ایک سال سے زائد عرصے تک اپنے علاقے میں کام کیا۔ انہوں نے اقرا سکول ثمرباغ میں بطورِ پرنسپل فرائض انجام دیے۔ ساتھ ہی تحریکی کاموںمیں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے اور ایک سال کے اندر ہی جماعت اسلامی کے باقاعدہ رکن بن گئے۔

2002کے الیکشن میں PK95سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔بعد ازاں خیبر پختونخوا میں بطورِ قیم صوبہ(سیکرٹری جنرل) ذمہ داری رہی۔

2003ءمیں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر بنے اور یہ گراں بار ذمہ داری احسن انداز میں نبھائی۔

2006ءمیں جب عید کے چوتھےدن ڈمہ ڈولہ پر ڈرون حملے ہوئے توانہوں نے استعفیٰ دے دیا۔

اپریل 2009ءمیں انھیں امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے مرکزی نائب امیر مقرر کیا۔ اس ذمہ داری کو بھی انھوں نے بخوبی انجام دیا۔

مارچ 2014 ء میں جماعت اسلامی کے ارکان نے آپ کو 5 سال کے لیے امیرجماعت منتخب کیا ہے۔

اکتوبر 2002ءکے انتخابات میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے خیبر پختونخوا میں کامیابی حاصل کی تو انھوں نے صوبائی حکومت میں بطورِ سینئر وزیر اور وزیر خزانہ خدمات انجام دیں اور اپنوں اور غیروں سے اپنی صلاحیت وقابلیت اور امانت و دیانت کا لوہا منوایا۔ ان کی قیادت میں جماعت اسلامی کے 6 دیگر وزرا نے بھی مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور یوں سیاسی میدان میں بھی وہ ایک بہترین ٹیم لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت میں ادا کیے گئے اس کردار کے اپنے بیگانے سب معترف ہیں۔ کئی غیرملکی اداروں نے بھی اپنی سروے رپورٹوں میں ان کی بہترین کارکردگی کو سراہا۔ 2013ءکے انتخابات کے بعد خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی مخلوط قائم ہوئی تو سینئروزیر اور وزیر خزانہ کے لیے نظر انتخاب انھی پر ٹھہری اور اس عرصے میں بھی انھوں نے بخوبی ذمہ داری نبھائی۔ دونوں ادوار میں بطور وزیر ان کا دروازہ ہر خاص و عام کے لیے کھلا رہا۔

اثاثہ


  • Assets details not available yet.
  • انتخابی پروفائل


  • Electroral Profile not available yet.