شہباز شریف

image description

تعارف

شریف خاندان کے چشم وچراغ شہبازشریف 23 ستمبر1951ء کو لاہور میں پیدا ہوئے، آپ نے گورنمنٹ کالج لاہورسے گریجویشن کی۔ 1985ء میں وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر بنے۔

شہبازشریف پنجاب کے واحد سیاست دان ہیں جنہیں اپنے تیس سالہ سیاسی کیریئر میں تین بار وزیراعلیٰ پنجاب کا منصب سنبھالنے کا اعزاز حاصل ہے۔

شہبازشریف کا سیاسی سفر

1988ء کے انتخابات میں جب نوازشریف وزیراعلیٰ پنجاب بنے تو ان کے چھوٹے بھائی شہبازشریف لاہور کے حلقہ پی پی 122 سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے اور اپنے سیاسی کیریئر کا باقاعدہ آغاز کیا۔

انہوں نے 1988ء کے انتخابات میں 22 ہزار 372 ووٹ حاصل کیے اور اپنے مخالف پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار کو شکست دی۔ 1990ء میں لاہور کے حلقہ پی پی 124 سے الیکشن لڑا اور26 ہزار 408 ووٹ لے کر کامیابی حاصل۔

شہبازشریف نے 1990 ہی کے انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے لاہور کے حلقہ این اے 96 سے الیکشن لڑا اور 54 ہزار 504 ووٹ لے کر اپنے مخالف امیدوار جہانگیربدرکو شسکت دی۔

انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست کو برقرار رکھنے کے لیے صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 124 کو خالی کردیا۔ 1993ء میں حلقہ پی پی 125 سے 28 ہزار 68 ووٹ لے کر پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار کو شکست دی۔

اسی انتخابات میں شہبازشریف نے لاہور کے حلقہ این اے 96 سے الیکشن لڑا اور 55 ہزار 867 ووٹ لے کر یوسف صلاح الدین کو شکست دی لیکن اس بار صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے قومی اسمبلی کی نشست کو خالی کردیا۔

1997ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کے طور پر پی پی 125 سے 25 ہزار 13 ووٹ لے کرپیپلزپارٹی کے امیدوار کو شکست دی اور پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

اسی انتخابات میں شہبازشریف نے لاہور کے حلقہ این اے 96 سے الیکشن لڑا اور 47 ہزار 614 ووٹ لے کرسابق وزیراعلیٰ پنجاب حنیف رمے کو شکست دی

شہبازشریف 1997ء میں تیسری بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور 20 فروری 1997ء کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طورپرعہدے کا حلف اٹھایا۔

12 اکتوبر1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے مارشل لاء لگایا اور شہبازشریف کو نوازشریف اور دیگر کے ہمراہ جیل بھیج دیا گیا اور دسمبر2000 میں حمزہ شہباز کے علاوہ پورے خاندان کو جلاوطن کردیا گیا۔

شہبازشریف 3 اگست 2002ء کو جلاوطنی کے دور میں ہی پہلی مرتبہ مسلم لیگ ن کے صدر بنے اور 2006ء میں دوبارہ ن لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔

2008ء کے عام انتخابات میں شہبازشریف کو حصہ نہیں لینے دیا گیا، انہوں نے جون 2008ء کے ضمنی الیکشن میں بھکر کے حلقہ پی پی 48 سے انتخاب لڑا اور دوسری بار وزیراعلیٰ پنجاب بنے۔

25 مارچ 2009 کو سپریم کورٹ نے شہبازشریف کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا بعدازاں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔

2009ء میں صدر آصف علی زرداری نے گورنرراج کا نفاذ کرکے سلمان تاثیر کو گورنرپنجاب نامزد کیا تو شہبازشریف معزول ہوگئے۔ شریف براداران نے عدالت کی بحالی کے لیے یوسف رضا گیلانی کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیا جس کے نتیجے میں عدلیہ بحال ہوئی اور گورنرراج ختم ہوگیا۔

مسلم لیگ ن نے 2013ء کے انتخابات میں کامیابی سمیٹی، شہبازشریف نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 159، 161 اور 247 کے علاوہ لاہور کے حلقہ این 129 سے الیکشن لڑا اور تمام نشتوں پر کامیابی حاصل کی۔

شہبازشریف نے پی پی 159 کی صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے دیگر نشتوں کو خالی کیا اور 371 کے ایوان میں 300 ووٹ لے کر تیسری بار وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے۔

نوازشریف پارٹی صدارت کے لئے نااہل قرار

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے 21 فروری کو سابق وزیراعظم نوازشریف کو پارٹی صدارت کے لیے نا اہل قرار دیے جانے کے بعد شہبازشریف کو مسلم لیگ ن کا قائم مقام صدربنایا گیا تھا۔

بعدازاں 27 فروری کو لاہور میں راجہ ظفرالحق کی قیادت میں مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا تھا جس میں پارٹی نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو پارٹی کا تاحیات قائد اور شہبازشریف کو قائم مقام صدر منتخب کیا تھا۔

شہبازشریف بلامقابلہ مسلم لیگ ن کے صدرمنتخب

وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف 13 مارچ 2018 کو مسلم لیگ ن کے مستقل صدر منتخب ہوئے، ان کے مقابلے میں کسی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے۔

اثاثہ


  • Possessed assets worth: Rs 159 million
  • Tax paid in 2017: Rs.95,31,060
  • Properties owned: In Murree, Lahore and 2 flats in the UK
  • Agricultural land: 670 kanals
  • انتخابی پروفائل


  • Electroral Profile not available yet.