مولانا فضل الرحمن

image description

تعارف

مولانا فضل الرحمان 19 جون 1953 کو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے عبدالخیل میں پیدا ہوئے، وہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ ہیں، صوبہ خیبرپختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمود کے صاحبزادے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے ابتدائی تعلیم ایک مقامی دینی مدرسے میں حاصل کی اس کے بعد انہوں نے جامعہ پشاور سے 1983ء میں اسلامک اسٹڈیز میں بی اے کا امتحان پاس کیا، اس کے بعد وہ مصر کے جامعہ الاظہر میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے گئے اور وہاں سے ایم اے کا امتحان پاس کیا، وہاں انہوں نے مذہبی علم ذات میں تعلیم حاصل کی اور اسی صنف میں تحقیق کی اور مطالعہ مذاہب میں الاظہر یونیورسٹی سے ایم اے کی سند حاصل کی۔

سیاسی کیریئر

مولانا فضل الرحمان تقریباً ہر حکومت کے اتحادی ہوتے ہیں، نگراں حکومت آنے سے قبل پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے اتحادی رہے، جبکہ اسی حکومت میں بطور رکن قومی اسمبلی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، ان کی جماعت جمعیت علماء اسلام (ف) پاکستان کے صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بہت اثر و رسوخ رکھتی ہے، بلوچستان میں ہمیشہ ان کی جماعت کے بغیر کوئی پارٹی حکومت نہیں بناسکی ہے اور خیبر پختونخوا میں بھی اپوزیشن لیڈر جمعیت علماء اسلام (ف) کے مولانا لطف الرحمان رہے، مولانا لطف الرحمان، مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی ہیں جبکہ سینیٹ میں ڈپٹی چیئرمین رہنے والے مولانا عبدالغفور حیدری بھی جمعیت علمائے اسلام ہی کے ہیں جو جماعت کے مرکزی جنرل سیکریٹری بھی ہیں۔ 2013 کے انتخابات میں بھی اپنے حلقہ سے کامیابی ہوئی، نواز شریف کی درخواست پر وفاقی حکومت میں شریک جبکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حزب اختلاف میں ہیں۔

ضیاء دور میں جیل گئے

مولانا فضل الرحمان اسلام کے سخت پابند اور حمایتی ہیں، انہوں نے مشہور تحریک ایم آر ڈی میں قائدانہ کردار ادا کیا جو جنرل ضیاء الحق کے خلاف تھی جن میں ان کے ساتھ پیپلزپارٹی بھی شریک تھی جس کی پاداش میں وہ دو سال تک جیل میں بھی رہے ان کا کردار حکومت کی بائیں بازو کی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی میں 1992 میں بڑھ گیا اور جموں و کشمیر اور افغانستان سے متعلق علاقائی پالیسی میں اپنا کردار موثر طور پر ادا کیا۔

قومی سطح پرسیاست میں انٹری

مولانا فضل الرحمان 1988ء میں قومی سطح کی سیاست میں آئے اور پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن بنے،انہوں نے 1988 کے عام انتخابات میں حصہ لیا وہ انتخابات جمعیت علماء اسلام (ف) کے پلیٹ فارم سے لڑے تھے جو ایک اسلامی بنیاد رکھنے والی پارٹی ہے، بینظیر بھٹو کے دور میں وہ خارجہ کمیٹی کے سربراہ رہے۔

دورہ سعودی عرب

مولانا فضل الرحمان کے سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں یہی وجہ ہے کہ امام الحرمین جب بھی پاکستان تشریف لاتے ہیں تو ان کی مہمان نوازی ضرور قبول کرتے ہیں، بین الاقوامی سطح پر مولانا کی رائے کو ایک اہم مقام حاصل ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ میں ان کی رائے کو رجسٹرڈ کیا جاتا ہے، بیرون ممالک میں مولانا فضل الرحمان کے چاہنے والوں کی کثیر تعداد موجود ہے۔

ایم ایم اے کی بحالی

مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق میں تعلقات کشیدہ ہونے کے باعث متحدہ مجلس عمل ٹوٹ گئی تھی تاہم کچھ روز قبل دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کو باقاعدہ طور پر بحال کر دیا گیا ہے اور 20 رکنی مرکزی کونسل کی تشکیل کا مرحلہ طےکرلیا گیا ہے، ایم ایم اے کے پہلے اجلاس کے بعد امیر جماعت اسلامی سراج الحق، امیر جمعیت اہلحدیث ساجد میر سمیت دیگرعلمائے اکرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

2018 انتخابات کے لیے سیاسی منشور کا اعلان

مذہبی جماعتوں کے سیاسی اتحاد متحدہ مجلس عمل ( ایم ایم اے) نے آئندہ انتخابات کے لیے انتخابی منشور کا اعلان کر دیا، اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق،لیاقت بلوچ اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایم ایم اے کا 12 نکاتی منشور پیش کیا، ایم ایم اے قائدین کا کہنا تھا کہ ملک کی تمام بڑی مذہبی جماعتیں ایم ایم اے کے منشور پر متفق ہیں، ایم ایم اے نے اپنے انتخابی منشور میں ملک میں نظام مصطفیﷺ، ختم نبوت و اسلامی دفعات کے تحفظ،آزادخارجہ پالیسی، ڈیمز کی تعمیر، تعلیم و علاج کی مفت فراہمی، روزگار کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے، مولانافضل الرحمن نے کہا کہ نئے صونے بنائے جائیں لیکن لسانی بنیادوں پر نہیں، پانی کا بحران اپنی جگہ مگر اس کا حل صرف کالا باغ ڈیم کوبنا کر پیش کرنا درست نہیں۔

اثاثہ


  • Assets details not available yet.
  • انتخابی پروفائل


  • Electroral Profile not available yet.